ڈالرز، ریال ، سونے کے زیورات اور سکے ، قیمتی گاڑیاں اور جدید اسلحہ ۔۔۔۔ آخر لیاقت قائمخانی کیا بلا تھا ؟ شاہ زیب خانزادہ کا خصوصی تبصرہ اس خبر میں

کراچی (ویب ڈیسک)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ نیب کے بارے میں تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ اس کے تفتیش کے طریقہ کار گرفتاریوں اور خوف کی وجہ سے سرکاری افسران نے جائز کام کرنا بھی چھوڑ دیئے ہیں،حکومتی وزراء کو بھی نیب کی

کارروائیوں پر اعتراض ہے،بیورو کریٹس بڑے پراجیکٹس پر کام کرتے ہوئے مقدمات سے ڈرتے ہیں،بیوروچیف جیو نیوز کراچی فہیم صدیقی نے کہا کہ کراچی میں سب لوگ لیاقت قائم خانی اور اس کے کردار سے واقف ہیں، وہ مشرف دور سے چار ادوارِ حکومت میں پوسٹنگ لیے رکھے رہے اور انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے،جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں میں مقابلہ کا صحتمندانہ رجحان ہے جو صارفین کیلئے خوش آئند ہے، ہم سستے ترین لیول پر صارفین کو سروسز فراہم کررہے ہیں، ہم ٹیلی کام سے ٹیکنالوجی میں جارہے ہیں، اگلے برسوں میں کچھ ایسی چیزیں ہوں گی جس میں صارف ہمیں ریونیو بڑھانے کیاجازت دے سکتا ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ ٹیلی کام میں نہ ہوں۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ سابق ڈی جی پارکس کی گرفتاری کو دو دن ہوگئے مگر اب تک خبروں میں ہے، گرفتاری کے بعد چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں، سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ایک سرکاری افسر کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا،نیب کی ٹیم جمعے کو بھی لیاقت قائمخانی کے گھر پر گئی،خود ملزم نے اپنے گھر میں موجود تجوری کھولی جس سے سونے کے پانچ سیٹ، سونے کے سکے، پرائز بانڈ اور پاکستانی و غیرملکی کرنسی نکالی، اس سے پہلے گزشتہ روز نیب نے جب لیاقت قائمخانی کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تو اس وقت بھی بہت سا قیمتی سامان ملا تھا، اب لیاقت علی قائمخانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح ثابت کرتے ہیں کہ ان

کے اثاثے آمدنی کے مطابق ہیں۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ نیب کے بارے میں تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ اس کے تفتیش کے طریقہ کار، گرفتاریوں اور خوف کی وجہ سے سرکاری افسران نے جائز کام کرنا بھی چھوڑ دیئے ہیں، بیوروکریسی کا پہیہ جام ہورہا ہے، نہ فائلوں پر دستخط ہورہے ہیں اور نہ ہی سرکاری منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں، بیوروکریسی کام نہیں کرپارہی ہے کیونکہ اعلیٰ بیوروکریٹس کو خوف ہے کہ اگر وہ کسی بھی بڑے پراجیکٹ میں کام کرتے ہیں تو ان کیخلاف بھی مقدمات بن سکتے ہیں ۔شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ جب ہم نے نیب ترجمان کو پروگرام میں آنے کی دعوت دی تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد، لاہور، پشاور کی بیوروکریسی کو ایڈریس کیا گیا ہے، بیوروکریسی کو نیب سے شکایات نہیں ہیں، نیب کا دعویٰ ہے کہ ہم بیوروکریسی کا احترام کرتے ہیں مگر جہاں بھی کرپشن کے معاملات سامنے آئیں گے ان سے نمٹا جائے گا، بیوروکریسی ہی نہیں حکومتی وزراء بھی نیب کارروائیوں پر اعتراض کررہے ہیں۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ اس وقت سہولت فراہم کرنے میں موبائل فونز اہم کردار ادا کررہے ہیں، انٹرنیٹ آنے کے بعد سے موبائل فون سے ایک صنعت ای کامرس جڑی ہوئی ہے، آپ کو کھانا منگوانا ہے، بل ادا کرنا ہے، ٹیکسی منگوانی ہے یا پھر چند لمحوں میں پیسے منتقل کرنے ہیں یہ سب موبائل فون سے ممکن ہوگیا ہے، بہت سے دوسری سیکٹر ز بھی ٹیلی کام سیکٹر سے وابستہ ہوگئے ہیں، 2017ء میں پاکستان میں ای کامرس

کا حجم بڑھ کر 40ارب روپے تک پہنچ گیا مگر اب بھی اس سیکٹر میں بہت گنجائش موجود ہے، بھارت میں 2017ء میں ای کامرس مارکیٹ کا حجم 24ارب ڈالرز تھا، توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ 2021ء میں یہ 84ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔ بیوروچیف جیو نیوز کراچی فہیم صدیقی نے کہا کہ کراچی میں سب لوگ لیاقت قائم خانی اور اس کے کردار سے واقف ہیں، وہ مشرف دور سے چار ادوارِ حکومت میں پوسٹنگ لیے رکھے رہے اور انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے، لیاقت قائم خانی کی گرفتاری کے وقت اسے جعلی اکاؤنٹس کیس سے جوڑا گیا مگر ابھی تک نیب نے اس حوالے سے کوئی انفارمیشن شیئر نہیں کی ہے،لیاقت قائم خانی کے کیس پر نیب کی دو ٹیمیں کام کررہی تھیں، ایک ٹیم جعلی اکاؤنٹس کیس جبکہ دوسری آمدن سے زائد اثاثوں پر کام کررہی تھی، لیاقت قائم خانی کے گھر سے ایک ارب روپے کے اثاثے مل چکے ہیں جبکہ یہ معاملہ کم از کم دس ارب تک جائے گا۔ فہیم صدیقی کا کہنا تھا کہ لیاقت قائم خانی چار ادوارِ حکومت میں عہدوں پر رہے اس دوران انہوں نے جن لوگوں کے ساتھ کام کیا وہ یہ جانتے ہوں گے کہ لیاقت قائم خانی کیا کررہے ہیں، لیاقت قائم خانی کو بیوروکریسی میں انتہائی طاقتور سمجھا جاتا تھا۔جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے کہا کہ پاکستان میں پچیس سال سے ٹیلی کمیونیکیشن اور عوام کو سہولتیں دینے میں اپنا کردار انجام دے رہے ہیں، پاکستان میں ٹیلی ڈینسٹی کے لحاظ سے 77فیصد penitration اتنی زیادہ نہیں ہے ، ہمیں ان ایریاز میں سروسز لے جانے کیلئے کافی کام کرنا پڑے گا جہاں آبادی ابھی بھی بیسک ٹیلی کمیونی کیشنز سے محروم ہے، پچیس سال پہلے فون صرف ایک دوسرے سے بات کرنے کا ذریعہ تھا اب دنیا انٹرنیٹ پر چلی گئی ہے، ہمیں بھی اپنا گیئر چینج کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی طرف جانا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں