وزارت اعلیٰ کی حالت زار ۔۔۔ عثمان بزدار نے ایسی بات پر ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو ہٹانے کا حکم دے دیا کہ جان کر آپ بھی پریشان ہو جائیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکے معاون خصوصی نے فون نہ اٹھانے پر میڈیکل آفیسر کو ہٹانے کا حکم دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے خوراک سردار خرم خان لغاری نے ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کو ہدایت کی ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جتوئی میں تعینات

ایڈہاک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر علی کو برطرف کردیا جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو خط میں ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کے خلاف ایک شخص محمد اعظم کی جانب سے ایم ایس کو درخواست بھی دی گئی ہے، اس کی بنیاد پر ڈاکٹر کو ہٹایا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ صوبے بھر میں گورننس کے معاملات ٹھیک نہ ہونے پر انہیں بے جا تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ بارہا سردار عثمان بزدار کی تبدیلی کی خبریں بھی سامنے آئیں ۔ سردار عثمان بزدار کے حوالے سے کالم نگار عمران یعقوب نے اپنے حالیہ کالم میں لکھا کہ اب سے ایک مرتبہ پھر پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی تبدیلی کی افواہیں گردش میں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے دو انتہائی قریبی ساتھی عثمان بزدار کی کابینہ سے ہٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل کی نجی محفلوں میں گفتگو کے بعد پنجاب میں افواہوں کا بازار گرم ہوا۔ شہباز گل کا اعتماد بھی دیدنی تھا۔ بعد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد شہباز گل کو پریس کانفرنس کرنا پڑی کہ عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے جسے بزدار پسند نہیں وہ پارٹی چھوڑ دے۔ شہباز گل کی پریس کانفرنس کا لب لباب یہی تھا عثمان بزدار کا کلہ مضبوط ہے۔ اس پریس کانفرنس کے چند ہی دن بعد شہباز گل کو کابینہ چھوڑنا پڑی۔ اب خبریں ہیں انہیں وفاق میں کوئی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ایک طرح سے انہیں پنجاب بھی چھوڑنا پڑے گا۔ اب اس کہانی میں کون استعمال ہوا اور کس نے استعمال کیا؟ اس کا ثبوت تو آنے والے دنوں میں ملے گا لیکن اگر شہباز گل کو وفاق میں کھپایا جاتا ہے تو یہ اشارہ ہو گا کہ شہباز گل بھی کسی ڈیوٹی پر تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں