مجھ سے ملیے، مجھے نیک پروین کہتے ہیں۔۔۔ پاکستانی معاشرے کے پول کھولتی بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ

لاہور(ویب ڈیسک) میرے نزدیک عورت کا کمال اپنے مجازی خدا کو خوش رکھنا اور اس کی جوتیاں سیدھی رکھنا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی جوتیاں کھا بھی لینا۔اور مار پڑنے پر واویلا کر کے اپنا پیٹ ننگا کرنے کے بجائے یہ سوچنا کہ مجھ سے کیا غلطی ہوئی۔ کیونکہ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے،

نامور خاتون صحافی نازش ظفر بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ تالی میں ایک فریق تھپڑ بھی مار سکتا ہے۔ مار پڑنے کے بعد ’ہم سفر‘ کی خرد کی طرح رو رو کر یہ کہنا ضروری ہے کہ : ’اشعر یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔‘ مطلب ایسے رد عمل دیں کہ آپ کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اور جو فیمنسٹ خواتین ہیں ان کی بات پر کان نہ دھریں، یہ خود طلاقیں لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور اپنی عزت خود خراب کرتی ہیں۔‘یہ سب ان بہت سے خیالات میں سے چند ایک ہیں جن کا پرچار فیس بک کا ایک کردار ’نیک پروین‘ کرتی ہیں۔ نوجوان خاتون مریم شفقت گورایہ نے پاکستان میں لڑکپن سے جوانی گزارتے ایسی کئی نیک پروینوں کا سامنا کیا جو معاشرے میں خواتین کے لیے مقرر کردہ معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ انکا دبا ہوا مزاج انکا انتخاب نہیں بلکہ صدیوں کی روایت من وعن اپنانے کا نتیجہ ہے۔پدرسری معاشرے کے اس معیار کو بےنقاب کرنے کے لیے مریم شفقت نے ایک نقاب پوش خاتون کا کرار تخلیق کیا۔نیک پروین سنڈروم نامی ان کے فیس بک پیج پراس کردار کی گفتگو اس عورت کی گفتگو ہے جو اپنے جملہ حقوق بحق شوہر محفوظ کر چکی ہے۔ مریم اس وقت جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پی ایچ ڈی مکمل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم، کریئر، شادی، رائے کی آزادی، سمیت ہر معاملہ پر خواتین کے لیے محضوص معیار مقرر کیے گئے اور

ان سے بغاوت کرنے والی عورت لعن طعن کا نشانہ بنی۔مریم اس حوالے سے اپنی ذاتی زندگی میں بات کرتی رہیں اور اپنے فیس بک پیج پر سٹیٹس وغیرہ بھی لگا دیتیں۔لیکن پھر انھیں لگا کہ یہ معاملہ اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اس پر بلاگ بنا کرکھل کر بات کی جا سکتی ہے۔ تب ہی نقاب پوش نیک پروین کا کردار تخلیق ہوا۔ سوشل میڈیا وہ کام کر رہا ہے جو روایتی میڈیا سے نہ ہو سکا مریم شفقت کا کہنا ہے کہ ناول، ڈائجسٹ اور ٹی وی ڈراموں نے عورت کو مار کھا کر چپ رہنا سکھایا۔ انھوں نے سوشل میڈیا کا انتخاب صرف اپنا اور اپنے جیسے کئی عورتوں کا پیغام پہنچانے کے لیے کیا۔مریم کہتی ہیں انھیں ٹی وی کے برعکس اس سے پیسہ ملنے یا ریٹنگ ملنے کا لالچ نہیں ہے۔ نیک پروین بمقابلہ فیمنسٹ خواتین، ٹاکرہ سوشل میڈیا پر شروع کرنا ٹی وی کی نسبت زیادہ آسان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں