1100 میں سے 1092 نمبر لینے کے باوجود ملک میں کوئی آئنسٹائن یا نیوٹن کیوں پیدا نہیں ہو رہا؟ وجہ جانیئے!

پچھلے کچھ دنوں بالخصوص میٹرک کے رزلٹ کے بعد یہ بحث ہمارے سوشل میڈیا پر بہت زور پکڑ چکی ہے کہ 1100 میں سے 1092نمبر لینے کے باوجود ملک میں کوئی آئنسٹائن یا نیوٹن کیوں پیدا نہیں ہو رہا؟ میں بتانے کی کوشش کرتا ہوں! 1. سٹنٹڈ گروتھ: ہمارے بچوں کی ماؤں کو کوالٹی خوراک نہیں مل پاتی۔

انکی خوراک کا خیال نہیں رکھا جاتا یا وہ خود بھی اپنی خوراک کو اہمیت نہیں دے پاتیں، جس سے بچہ پیدا ہوتے ساتھ اور پہلے سات سال کم کوالٹی اور کم مقدار خوراک ملنے کی وجہ سے پوری نشو و نما نہیں لے پاتا۔ جس سے وہ زندگی میں کریٹیکل تھنکنگ، فیصلہ سازی، کریئٹویٹی یا انوویشن میں پیچھے رہ جاتا ہے۔2۔ سازگار ماحول: ہمارا گھر، معاشرہ بچے کو اس کے پنپنے کے لئے سازگار ماحول مہیا نہیں کرتا۔ جیسے ایک پودے کو بڑا ہونے کے لئے ایک خاص مقدار میں خوراک، ہوا، پانی وغیرہ چاہئے ہوتا ہے ویسے ہی ایک بچے کو وہی سازگار ماحول چاہئے ہوتا ہے پنپنے کے لیے، جس کے آگے ہمارا گھر فیملی معاشرہ جگہ جگہ پر بند باندھتا ہے۔3۔ سوشل پریشر: یہ سب سے بڑی اور سب سے اہم وجہ ہے آئن سٹائن یا نیوٹن پیدا نہ کر سکنے کی۔ بچے نے میٹرک میں جیسے تیسے اچھے نمبر لیے، اب نب اس نے کھل کھیلنا تھا، سوسائٹی نے اس سے ایسی ایسی امیدیں باندھ لیں کہ وہ اپنے دماغ سے فائدہ ہی نہ اٹھا سکا۔ ڈاکٹر بننا ہے، جلد پیسہ کمانا ہے، چھوٹے بھایی کی فیس دینی ہے، بہن کی شادی ہونی ہے، باپ کا سہارہ بننا ہے، ماں کو عمرہ کرانا ہے، اپنی شادی کرنی ہے، بچے پیدا کرنے ہیں، سوسائٹی میں ناک اونچا رکھنے کے لیے بنگلہ بنانا ہے، دھوم دھام سے شادی کرنی ہے، بینک بیلنس بنانا ہے۔ آپ دنیا میں نیوٹن جیسے جتنے بھی لوگ دیکھیں گے وہ سب کے سب آپ کو ملنگ نظر آئیں گے،

جنہیں اپنے سٹیٹس، رکھ رکھاؤ، لباس یا اس جیسی کسی اور دکھاوے کی چیز سے دور دور تک واسطہ نہیں ہوگا۔ ان پر سوشل یا فیملی پریشر بھی نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ ان پر ذمہ داریاں بھی ہمارے عائلی نظام جیسی نہیں ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آؤٹ آف دا باکس سوچتے، ریسرچ میں بغیر فکر کے برسوں لگاتے اور کامیاب ہوتے ہیں۔4۔ لوگ کیا کہیں گے! : وہاں کے نظام میں بات بات پر جج نہیں کیا جاتا، کسی کی بلال وجہ حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی، ٹانگیں نہیں کھینچی جاتی، دخل نہیں دیا جاتا، مذاق تقریباً نہیں اڑایا جاتا۔ وہ کھل کھیلتے ہیں، دنیا کے نظام کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔5۔ ریوارڈ سسٹم: ٹک ٹاک/یوٹیوب پر ناچتا ایک بچہ 20 سال عرق ریزی کرنے والے ڈاکٹر سے زیادہ پیسہ، شہرت، فیم کا مالک ہوگا تو بچے یوٹیوبر بنیں گے ناکہ ریسرچر۔ یوٹیوبر ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن ہمارے معاشرے کو یہ طے کرنا پڑے گا کہ عزت و شہرت و روپے پیسے کا زیادہ حقدار کون ہے! 6۔ سسٹم: کولیکٹو سسٹم ایک ایسے طریقہ کار یا نظام کا نام ہے جہاں بچہ، یا بڑا خود ہی ریسرچ کی طرف متوجہ ہو کیونکہ اسکے آس پاس کا ذرہ ذرہ اس کے لیے یہ راستہ ہموار کرتا ہے۔ سکول کالج، مدرسہ، دوست، میڈیا، معاشرہ، مسجد، غرض ہر ہر چیز اسکی حوصلہ افزائی و رہنمائی کرے کہ ریسرچ ایک پازیٹو چیز ہے، اس سے اسکے پیٹ، فیملی کا پیٹ، شادی بچے، بچوں کی پڑھایی سب کچھ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پھر دیکھنا 1092 تو کیا 600 نمبر لینے والا بھی سٹیو جابز، بل گیٹس، جیک ما یا آئین سٹائین بنے گا!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں