’’خان صاحب کو تھوڑا سا وقت دے دیں پھر دیکھنا۔۔۔‘‘وزیراعظم عمران خان آنے والے کچھ ہی دنوں میں قوم کو کیا کرشمہ دکھانے والے ہیں؟ شاہد آفریدی نے بتا دیا

کراچی (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے سینئر صحافی سلیم صافی سے درخواست کی ہے کہ وہ عمران خان کو تھوڑا سا وقت دے دیں۔سینئر صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی نے ٹماٹر کی قیمت بڑھنے پر ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’ اب بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا ہو تو شاہد آفریدی

کو وزیراعظم بنا لیں، پھر بھی کچھ کمی رہ جائے تو جان شیر خان اور ان کے بعد جہانگیر خان کو بنا لیں۔سلیم صافی کے اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے شاہد آفریدی نے سینئر صحافی کو مخاطب کرکے کہا’ ستر سال کا بوجھ ہے ، سلیم بھائی تھوڑا وقت عمران خان کو بھی دے دیں؟ دنیا بھر میں کھلاڑیوں نے پاکستان کو جو مقام دیا ہے کاش کے ہمارے سیاست دان بھی دیتے! کرشمے کھلاڑی دکھاتے رہے ہیں اتنی جلدی ہمت نا ہاریں۔ پاکستان زندہ باد۔‘خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ 3 روز کے دوران ٹماٹر کی قیمت 70 روپے کے اضافے کے ساتھ 250 روپے کلو ہوچکی ہے۔ لاہور میں ٹماٹر کی چھلانگ کراچی سے کہیں زیادہ ہے اور یہاں اس کی قیمت 400 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اس سارے معاملے سے بے خبر ہیں ، انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کی سبزی منڈی میں فی کلو ٹماٹر 17 روپے میں مل رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ آئین سے دور جائیں گے تو تصادم ہوگا ، اربوں روپے کے فنڈز کاحساب الیکشن کمیشن کونہیں دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اربوں روپے فنڈزکاحساب الیکشن کمیشن کونہیں دیاگیا۔ ایسے لوگوں کاملک پرمسلط ہوناعذاب الہٰی سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ عدالتوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ملک افراتفری کاشکارہے،مہنگائی سے ہرطبقہ پریشان ہے۔ مظاہرین کے مطالبے پرلبنان کے وزیراعظم مستعفی ہوئے۔یہ کہتے تھے اگر15 ہزارلوگ” گوعمران گو”کانعرہ لگائیں تومستعفی ہوجاوں گا۔آئین سے دورجائیں گے توتصادم ہوگا۔ کوئی بھی موجودہ حکومت پراعتمادکرنے کوتیارنہیں ہے ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ پاکستان کوآئی ایم ایف،ورلڈبینک کاغلام بنادیاگیا، آج ہمارابجٹ آئی ایم ایف تیارکرتاہے۔پاکستانی معیشت کوبین الاقوامی دباوسے نکالناچاہتے ہیں، دوسروں کو چور کہنا آسان ہے ،وسروں کو چور کہتے کہتے خود چور نکل آئے، ہم نے آئین ،جمہوریت اوراصولوں کی جنگ لڑنی ہے، ہم قانون اورآئین کے اندررہتے ہوئے اپنی جنگ لڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں