میرا خیال ہے تبدیلی آ جائیگی لیکن اس کے لیے عمران خان کو ایک کام کرنا پڑے گا ۔۔۔ جاوید چوہدری نے پتے کی بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے حکومتی نظام میں بھی یہ عنصر مسنگ ہے‘ ہماری حکومتیں سرکاری ملازموں سے ان کے کام کے بارے میں نہیں پوچھتیں‘ ان کا سارا فوکس کام کرنے والوں کے احتساب پر رہتا ہے چناں چہ کام نہ کرنے والے موج کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنےا یک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جب کہ کام کرنے والے کیس اور انکوائریاں بھگتتے ہیں‘ میں کل خبر پڑھ رہا تھا حکومت نے پنجاب کی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنا دیا‘ یہ بہت اچھی بات ہے۔احتساب ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہے پنجاب کی ہارٹی کلچر اتھارٹی نے توکچھ نہ کچھ کیا تھا لیکن جن صوبوں میں ان اتھارٹیز نے دس برسوں میں ایک پھول‘ ایک پودا نہیں لگایا کیا ان سے اس ’’پرفارمنس‘‘ پر سوال کیا گیا؟ پاکستان ہر سال انتظامی اخراجات پرہزارارب روپے خرچ کرتا ہے لیکن آپ ماحولیات سے لے کر صاف پانی‘ سیوریج‘ صحت‘ تعلیم‘ بجلی‘ گیس‘ سڑکوں اور ڈیمز کی حالت دیکھ لیجیے‘ محکمے موجود ہیں‘ یہ اربوں روپے تنخواہ بھی لیتے ہیں‘ دفاتر بھی قائم ہیں‘ گاڑیاں بھی چل رہی ہیں اورا سٹیشنری پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں مگر نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟پورے ملک میں کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جس میں ٹونٹی کا پانی پینے کے قابل ہو‘کیا آج تک کسی نے ان محکموں‘ ان اداروں سے پوچھا’’تم نے کیا کیا‘‘ بیورو کریٹس 17گریڈ میں بھرتی ہوتے ہیں‘ 35 سال ملازمت کر کے پینشن اور پلاٹس کے ساتھ ریٹائر ہو جاتے ہیں لیکن ان سے کوئی نہیں پوچھتا تم نے ان 35 برسوں میں کیا کیا؟

تمہاری پرفارمنس کیا تھی لہٰذا یہ کھربوں روپے برباد کر کے گھر چلے جاتے ہیں‘ کوئی ان سے بھی تو پوچھے آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں؟ حکومت نے 1953 میں بہبود آبادی کا محکمہ بنایا تھا‘ آبادی اس وقت 34 ملین تھی‘ آج 200 ملین ہے لہٰذا محکمہ بھی موجود ہے اور آبادی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی پوچھا‘ واسا بھی موجود ہے اور ٹونٹی کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں‘ چیئرمین سے چپڑاسی تک منرل واٹر پیتے ہیں‘ کیوں؟ آخر یہ حساب کون لے گا اور کب لے گا؟وزیراعظم ایک کمیشن اور بنائیں اور یہ کمیشن سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے‘ یہ محکموں سے پوچھے تم نے کیا کیا؟ میرا خیال ہے ہمارا ملک پھر بدلے گا‘ آپ کام نہ کرنے والوں کو پہلے پکڑیں‘ ملک پھر ٹھیک ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں