اگر میں سپیکر ہوتا تو اپنی ہی پارٹی میں سب سے پہلے کس کو معطل کرتا؟ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے باتوں ہی باتوں میں پوری پی ٹی آئی کو دنگ کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ راناثنااللہ اور شہریارآفریدی کو قرآن نہیں اٹھانا چاہئے تھا اگرمیں اسپیکر ہوتا تو دونوں کو 15،15دن کیلئےمعطل کر دیتا۔اے آر وائی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ملک کےتمام اداروں کوایک پیج پر ہوناچاہئے اگر ادارے ایک پیج پرنہ

ہوئے توملک انار کی طرف چلاجائےگا۔انہوں نے کہا کہ فوج پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی ہے، بل کی حمایت میں ووٹ دے کر ن لیگ اور پی پی نے بہت اچھا کام کیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ جاویدلطیف خواجہ آصف کے وزیراعظم بننےکےخلاف ہیں، جاویدلطیف بتائیں خواجہ آصف اور شاہدخاقان کےدرمیان کیاجھگڑا ہے، نوازشریف اورآصف زرداری اپنی اننگزکھیل چکےہیں، دونوں کی سیاست اب باقی نہیں رہی، آصف زرداری نےبلاول بھٹو کو آگے کر دیا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ بل کی حمایت کا مریم نواز اور بلاول کو نہیں پتا۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور (ق) لیگ کے گلے شکوے درست ہیں،ایم کیو ایم نے کہا وزارت چھوڑ رہے ہیں مگر حکومت نہیں، وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس وقت بھی کہا تھا نوازشریف کو با ہر نہیں جانا چاہئے، نوازشریف لندن میں ایک دن بھی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے، ڈاکٹرزکی ہدایت پر نوازشریف کو باہر جانے دیا گیا اب ڈاکٹرز پر انکوائری بیٹھنی چاہئےجنہوں نے کہا نوازشریف بہت بیمار ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نے سکھایا ہے ،حکمرانی انتہائی سنجیدہ لوگوں کاکام ہے لیکن پاکستان میں حکومت کوایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیاہے جنہوں نے اس کومذاق بنالیا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ فیصل واڈا نے جو کچھ کیاہے ،ایسا ہم نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا ، ایسے لوگ اقتدار میں آگئے ہیں جو کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے اداروں اور لوگوں کا وقار بڑھائیں لیکن جو لوگ حکمران بن گئے ہیں ۔ ان کے لیڈر نے ان کی تربیت ہی ایسے کی ہے کہ دوسرے کوبے عزت کرنا ہے ، اس طرح تربیت نہیں کی کہ کسی کو عزت دیناہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی انتہائی سنجیدہ لوگوں کاکام ہے لیکن پاکستان میں حکومت کو ایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیاہے کہ جنہوں نے اس کومذاق بنالیا ہے ۔سلیم صافی کا کہناتھا کہ فیصل واوڈا صاحب بنیادی طور پر اچھے آدمی ہونگے لیکن جو بحث ہوئی تھی ،اس کو بد قسمتی سے متنازعہ بنادیا گیا ۔ انسان تلخ چکروں پر جتنی جلدی مٹی ڈالے دے اچھا ہوتا ہے لیکن ایک وفاقی وزیرکے ہاتھوں بوٹ لاکر اداروں کو بے عزت کرنے کا ایسا طریقہ ہوسکتاہے؟ جس وزیر کا کام اداروں کی عزت میں اضافہ کرنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں