سندھ میں تبدیلی لانے کا وقت۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان نے گورنر سندھ کو کیا احکامات جاری کر دیئے؟ ایم کیو ایم کے لیے سرپرائز

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے آئی جی سندھ پولیس کے معاملے پر مشاورت کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ وزیراعظم نے گورنر کو آئی جی کے معاملے پراسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا ٹاسک دے دیا۔ذرائع

کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان اہم ملاقات کل ہوگی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں کابینہ نے آئی جی پولیس کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی اور آئی جی سندھ کے لیے نئے ناموں پر غور شروع کردیا ہے۔سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں، انہوں نے بعض مواقع پر غیرذمہ دارانہ بیان بھی دیے، صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوئی۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ آئی جی سندھ کلیم امام نے چند افسران کو صوبہ بدر کرنے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان فیصلوں نے پولیس کے مورال اور آئی جی کی کمانڈ کو کم زور کیا ہے۔آئی جی کلیم امام سندھ حکومت کے احکامات کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور افسران کے تبادلے کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے افسران کو عہدہ چھوڑنے سے روک دیا تھا۔واضح رہے کہ سندھ کابینہ نے آئی جی پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات سعید غنی نے کہا کہ موجودہ آئی جی سندھ نے کابینہ کا اعتماد کھو دیاہے،کراچی سمیت کئی اضلاع میں بہتری کی بجائےامن وامان کی

صورتحال خراب ہوئی،آئی جی سندھ کو خطوط لکھےگئے،13دسمبر کو آئی جی کو بتایا گیا کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سےرجوع کررہی ہے، اس دوران آئی جی کلیم امام نےغیرذمہ دارانہ بیانات دئیے،پولیس کی بگڑتی کارکردگی اور آئی جی سندھ کے غیر خلاف قانون رویوں پر سندھ حکومت نےذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کادفاع جاری رکھامگربدقسمتی سےپولیس کی کارکردگی بہترنہیں ہوئی،آئی جی فرماتےہیں کہ مجھےٹی وی کےزریعے افسران کو ہٹانے کا علم ہوا، جبکہ متعلقہ آفسر آئی جی کے نا پسندیدہ آفسر تھےجبکہ ایک ایس ایس پی جسکا تبادلہ سندھ حکومت نےکیااُنکی خدمات وفاق نے مانگیں تھیں لیکن آئی جی سندھ غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے رہے،ایس ایس پی کو سندھ سےبھیجنے پر آئی جی نےاعتراض کیا۔سعید غنی نے کہا کہ پولیس کا محکمہ براہ راست مختلف سفارت خانوں کو خط لکھتارہا جو کسی صورت بھی قانون اجازت نہیں دیتا اورکچھ انٹیلی جنس ایجنسیوں نےچیف سیکریٹری کو خط لکھاکہ پولیس افسران کو روکاجائے کہ وہ برائے راست غیر ملکی سفارت خانوں سے رجوع نہ کریں کیوں کہ یہ کام محکمہ خارجہ کے توسط سے ہوتا ہے،اس دوران وفاقی حکومت کو خطوط بھی براہ راست لکھےگئے اور یہ سب کچھ کلیم امام صاحب کے زیر سایہ ہوتا رہا،بسمہ اوردعامنگی اغوا کیس بھی ہوا،دعا منگی کیس میں ان کے گھر والوں کو بھی پولیس پر اعتماد نہ رہا، اس سے قبل ارشاد رانجھانی کا قتل ہوا جس میں پورے سندھ میں غم و غصہ پایا گیا کیوں کہ واقعےمیں ارشاد رانجھانی کو مبینہ طور پر پولیس موبائل میں گولیاں ماری گئیں جس کے بعد بد قسمتی سے لاڑکانہ میں دو معصوم جانیں ضائع ہوگئیں، تمام ایس ایس پیز اور ایڈیشنل آئی جیز آئی بھی کلیم امام کی تجویز پر تعنیات ہوتے رہے مگر حالات روز بروز خراب ہوتے رہے،سی پی او آفس اور افسران کےمکانات پر بےپناہ خرچہ کیاگیا جبکہ کم پیسوں میں دفاتر اور گھر ٹھیک ہوسکتے تھے،صوبائی حکومت کو رپورٹ دی جاتی تھی کہ اتنےملزم پکڑلیے تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ اعدادوشمار غلط تھےمسائل کافی عرصےسےچل رہےتھے ہماری کوشش تھی کہ آئی جی معاملات کو بھترکرلیں مگر ایسا نہ ہوا حوالات میں قیدیوں تک ویڈیوز بنانے کی اجازت دی جاتی رہی، یہ صرف سندھ میں ہی کیوں ہوتاہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں