حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔۔۔ فیصل واوڈا کا پروگرام میں بوٹ لانا کس کا اقدام ہے ؟ تجزیہ کارحسن نثار نے وفاقی وزیر کی تائید کرتے ہوئے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کارحسن نثار نے کہاہے کہ فیصل واوڈا کا اقدام نہیں ہے ، یہ حقیقت ہے اورناقابل تردید حقیقت ہے ، بات تو بات ہے لیکن بات ہے رسوائی کی ، یہ سو فیصد درست ہے ۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ فیصل واوڈا کا اقدام

نہیں ہے ، یہ حقیقت ہے اورناقابل تردید حقیقت ہے ، بات تو بات ہے لیکن بات ہے رسوائی کی ، یہ سو فیصد درست ہے ۔ اس حقیقت نے اس ملک کے سیاستدانوں کی نااہلی ،غیر ذمہ داری ، آپس میں جانوروں کی طرح جھگڑنے اور بدترین کرپشن کی کھوکھ سے جنم لیاہے ۔حسن نثار کا کہنا تھا کہ جونوازشریف نے کہا میں تو تب بھی ہنستا رہا ہوں کہ کون کہہ رہا ہے ؟ نواز شریف کی وزارت اعظمیٰ کا اس طرح اعلان کیا گیا تھا کہ جنرل جیلانی نے بیرے کا پگڑ اٹھا کر اس کے سرپر رکھ دیا تھا اور ضیاءالحق نے اس کو لمبی عمر کی دعائیں دی تھیں بصورت دیگر نواز شریف تو ایک کونسلر منتخب نہیں ہوسکتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک نقلیں اتارنے کی بات ہے تو یہ روایت بلاول بھٹو زرداری کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی تھی ، یہ روایتیں ہیں جومرتی نہیں ہیں۔ میں تاریخی حقیقت کی بات کررہا ہوں ، یہ ورثہ ہے ، ہم اس کوبھول نہیں سکتے ، سزا وقت دیتاہے ،اس کاانتظار کیاجائے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نے سکھایا ہے ،حکمرانی انتہائی سنجیدہ لوگوں کاکام ہے لیکن پاکستان میں حکومت کوایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیاہے جنہوں نے اس کومذاق بنالیا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ فیصل واڈا نے جو کچھ کیاہے ،ایسا ہم نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا ، ایسے لوگ اقتدار میں آگئے ہیں جو کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے اداروں اور لوگوں کا وقار بڑھائیں لیکن جو لوگ حکمران بن گئے ہیں ۔ ان کے لیڈر نے ان کی تربیت ہی ایسے کی ہے کہ دوسرے کوبے عزت کرنا ہے ، اس طرح تربیت نہیں کی کہ کسی کو عزت دیناہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی انتہائی سنجیدہ لوگوں کاکام ہے لیکن پاکستان میں حکومت کو ایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیاہے کہ جنہوں نے اس کومذاق بنالیا ہے ۔سلیم صافی کا کہناتھا کہ فیصل واوڈا صاحب بنیادی طور پر اچھے آدمی ہونگے لیکن جو بحث ہوئی تھی ،اس کو بد قسمتی سے متنازعہ بنادیا گیا ۔ انسان تلخ چکروں پر جتنی جلدی مٹی ڈالے دے اچھا ہوتا ہے لیکن ایک وفاقی وزیرکے ہاتھوں بوٹ لاکر اداروں کو بے عزت کرنے کا ایسا طریقہ ہوسکتاہے؟ جس وزیر کا کام اداروں کی عزت میں اضافہ کرنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں