فیصل واوڈا کی وجہ سے پاکستانی میڈیا کو کیا نقصان اُٹھانا پڑ گیا؟ وفاقی وزیر کی متنازعہ حرکت نے صحافی برادری کو کہیں کا نہ چھوڑا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہاہے کہ جتنا اس ملک میں توسیع کو روندا گیا ہے ، پامال کیاگیا ہے ، میں نے آج تک کسی چیز کو پاکستان میں پامال ہوتا نہیں دیکھا ۔جیونیوز کےع پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ جتنا

اس ملک میں توسیع کو روندا گیا ہے ، پامال کیاگیا ہے ، میں نے آج تک کسی چیز کو پاکستان میں پامال ہوتا نہیں دیکھا ۔انہوں نے کہا کہ اب مجھے لگتاہے کہ اس پر دل نہیں بھرا ،ہم اس معاملے پرناپ تول کر بات کرتے رہے لیکن کل سے کیا ہورہاہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ جب سے فیصل واوڈا کاکلپ وائرل ہواہے ،اس وقت سے سے میڈیا اور ادارہ ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گراپڑا ہے ۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھاکہ اس بوٹ کا سائز دیکھ لیں اور منہ دیکھ لیں،پاکستان کی سیاست میں اتنی غیر شائستہ اور بدتہذیبی کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ چند دنوں سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو نشانہ بناکر یہ بیانیہ عام کیاجارہاہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نے سکھایا ہے ،حکمرانی انتہائی سنجیدہ لوگوں کاکام ہے لیکن پاکستان میں حکومت کوایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیاہے جنہوں نے اس کومذاق بنالیا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ فیصل واڈا نے جو کچھ کیاہے ،ایسا ہم نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا ، ایسے لوگ اقتدار میں آگئے ہیں جو کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے اداروں اور لوگوں کا وقار بڑھائیں لیکن جو لوگ حکمران بن گئے ہیں ۔ ان کے لیڈر نے ان کی تربیت ہی ایسے کی ہے کہ دوسرے کوبے عزت کرنا ہے ، اس طرح تربیت نہیں کی کہ کسی کو عزت دیناہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی انتہائی سنجیدہ لوگوں کاکام ہے لیکن پاکستان میں حکومت کو ایسے لوگوں کے حوالے کردیا گیاہے کہ جنہوں نے اس کومذاق بنالیا ہے ۔سلیم صافی کا کہناتھا کہ فیصل واوڈا صاحب بنیادی طور پر اچھے آدمی ہونگے لیکن جو بحث ہوئی تھی ،اس کو بد قسمتی سے متنازعہ بنادیا گیا ۔ انسان تلخ چکروں پر جتنی جلدی مٹی ڈالے دے اچھا ہوتا ہے لیکن ایک وفاقی وزیرکے ہاتھوں بوٹ لاکر اداروں کو بے عزت کرنے کا ایسا طریقہ ہوسکتاہے؟ جس وزیر کا کام اداروں کی عزت میں اضافہ کرنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں