حکومت اور اپوزیشن کا نیب کو ختم کرنے کا خواب چکنا چُور۔۔۔!!! عوام کے پیسوں کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کیا کرنے والے ہیں؟ سخت ترین ایکشن کا عندیہ

لاہور(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس گلزار احمد بھی سوموٹو لے سکتے ہیں، جب چیف جسٹس کو یہ محسوس ہو گا کہ عوام کا پیسہ چوری ہو سکتا ہے تو وہ حرکت میں آئینگے، حکومت اور اپوزیشن نیب کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے

ہوئے سینر صحافی و تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی کا کہنا ہےکہ حکومت اور اپوزیشن نیب کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ نیب کی شاہ رگ کاٹ دی گئی ہے۔ نیب کا جو نیا آرڈیننس آ رہا ہے جس کے تحت نیب پبلک آفس ہولڈراور بیوروکریٹس کو نہیں پکڑ سکتی۔ انکا مزید کہنا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد بھی سوموٹو لے سکتے ہیں، جب چیف جسٹس کو یہ محسوس ہو گا کہ عوام کا پیسہ چوری ہو سکتا ہے تو وہ حرکت میں آئینگے، حکومت اور اپوزیشن نیب کو ختم کرنا چاہتی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ اور عثمان بزدار میں حکومت بنانے کا تحریری معاہدہ ہوا تھا، عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ حکومت بنانے والے ہیں اس لیے معاہدے کوزبانی نہیں تحریری طور پر تشکیل دیا جائے۔اس تحریری معاہدے کے تحت ق لیگ کو وفاق میں 2 اور صوبے میں بھی 2 وزارتیں دی جانی تھیں، ان وزارتوں کی خصوصیت یہ تھی کہ انکے فیصلوں میں وزیراعلی بھی مداخلت نہیں کر سکتا تھا۔انھوں نے بتایا تھا کہ اس معاہدے کے تحت صوبہ پنجاب کے 3 اضلاع اور 3 تحصیلوں میں جہاں ق لیگ جھیتی تھی وہاں پر انتظامیہ انکی مرضی سے لگائی جانی تھی، جن وزارتوں کی بات ہو رہی ہے ان میں پرویز الہیٰ کا نام باقاعدہ طور پر شامل تھا۔انکا کہنا تھا کہ اس بات کی تصدیق پرویز الہیٰ کے بیٹے مونث الہیٰ نے بھی کی ہے۔ مونث الہیٰ کا کہنا ہےکہ انھوں نے خود وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے،

جس میں انکا مطالبہ تھا کہ انکے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کی بھی سپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے ہونے چاہیں۔قبل ازیں ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ اختر مینگل بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں، پرویز الہیٰ بھی حکومت سے نالاں ہیں کہ ان سے کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان کے لیے مشکلات شروع ہو گئی ہیں۔ قبل ازیں عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی لوگوں کو کہا ہے کہ میں اسمبلی توڑ دوں گا مگر بلیک میل نہیں ہوں گا۔انہوں نے مزید کہاتھا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کی طرف سے بہت زیادہ پریشر آرہا ہے، انھوں نے فنڈز مانگنے شروع کر دیے ہیں، اگر مجھ پر زیادہ پریشر آیا تو میں بلیک ہونے کے بجائے اسمبلیاں توڑنے کو ترجیح دونگا۔حکومت کو اتحادیوں کی طرف سے مشکالات آنی شروع ہو گئی تھیں۔ایم کیوایم کے بعد جی ڈی اے بھی حکومت سے ناراض ہوگئی تھی، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے ترجمان سردار رحیم کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہمارے تحفظات برقرارہیں، وعدے پورے ہونے کا چند دن انتظارکریں گے، ورنہ جلد مشاورتی اجلاس بلایا جائےگا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیوایم نے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں