خفیہ معاہدہ منظر عام پر ۔۔۔!!! حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف اور (ق) لیگ میں کیا معاہدہ ہوا تھا؟ شرائط کیا تھیں؟ بلی تھیلے سے باہر آگئی

لاہور(نیوز ڈیسک) پرویز الہیٰ اور عثمان بزدار میں حکومت بنانے کا تحریری معاہدہ ہوا تھا، اس تحریری معاہدے کے تحت ق لیگ کو وفاق میں 2 اور صوبے میں بھی 2 وزارتیں دی جانی تھیں، ان وزارتوں کی خصوصیت یہ تھی کہ انکے فیصلوں میں وزیراعلی بھی مداخلت نہیں کر سکتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ پرویز الہیٰ اور عثمان بزدار میں حکومت بنانے کا تحریری معاہدہ ہوا تھا، عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ حکومت بنانے والے ہیں اس لیے معاہدے کوزبانی نہیں تحریری طور پر تشکیل دیا جائے۔اس تحریری معاہدے کے تحت ق لیگ کو وفاق میں 2 اور صوبے میں بھی 2 وزارتیں دی جانی تھیں، ان وزارتوں کی خصوصیت یہ تھی کہ انکے فیصلوں میں وزیراعلی بھی مداخلت نہیں کر سکتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت صوبہ پنجاب کے 3 اضلاع اور 3 تحصیلوں میں جہاں ق لیگ جھیتی تھی وہاں پر انتظامیہ انکی مرضی سے لگائی جانی تھی، جن وزارتوں کی بات ہو رہی ہے ان میں پرویز الہیٰ کا نام باقاعدہ طور پر شامل تھا۔انکا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ نے بھی کی ہے۔ مونس الہیٰ کا کہنا ہےکہ انھوں نے خود وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے، جس میں انکا مطالبہ تھا کہ انکے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی بھی سپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے ہونے چاہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ اختر مینگل بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں، پرویز الہیٰ بھی حکومت سے نالاں ہیں کہ ان سے کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان کے لیے مشکلات شروع ہو گئی ہیں۔ قبل ازیں عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی لوگوں کو کہا ہے کہ میں اسمبلی توڑ دوں گا مگر بلیک میل نہیں ہوں گا۔انہوں نے مزید کہاتھا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اتحادیوں کی طرف سے بہت زیادہ پریشر آرہا ہے، انھوں نے فنڈز مانگنے شروع کر دیے ہیں، اگر مجھ پر زیادہ پریشر آیا تو میں بلیک ہونے کے بجائے اسمبلیاں توڑنے کو ترجیح دونگا۔حکومت کو اتحادیوں کی طرف سے مشکالات آنی شروع ہو گئی تھیں۔ایم کیوایم کے بعد جی ڈی اے بھی حکومت سے ناراض ہوگئی تھی، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے ترجمان سردار رحیم کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہمارے تحفظات برقرارہیں، وعدے پورے ہونے کا چند دن انتظارکریں گے، ورنہ جلد مشاورتی اجلاس بلایا جائےگا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیوایم نے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں