ہمیں حکومت نہیں چاہیے بلکہ۔۔۔۔ مشکلات میں گھری اپوزیشن حکومت گرا کر کیا کرنا چاہتی ہے ؟ نامور تجزیہ کار ضیاشاہدنے (ن)لیگ کا بڑا بھید کھول دیا

لاہور (ویب ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاست میں اراضگی معمول کی بات ہے لیکن نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ پی ٹی آئی کے رویے سے شاکی ہیں اور اس سلسلے میں ان

کا کہنا ہے کہ ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اب اختر مینگل سے لے کر پرویز الٰہی تک جو خود تو نہیں بات کرتے لیکن وہ سپیکر ہیں لیکن وہ بہاولپور کے جو اپنے ایم این اے ہیں ان کی زبان سے بولتے ہیں ان سے اس قسم کی شکایات آتی رہتی ہیں بہرحال مقبول صدیقی پہلے ہی کابینہ چھوڑ چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت نہیں چھورے گی اور نہیں چاہے گی کہ حکومت ٹوٹے لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ بات برائے بات ہے ورنہ دراصل یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے معاملے میں لندن میں شہباز شریف بھی تحریک عدم اعتماد لانے کی فکر میں ہی لگتا ہے کہ آخری ریزارٹ کے طور پر عمران خان باری باری سب سے بات کریں گے۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم کایہ نقطہ نظر بھی سامنے آ گیا کہ وہ ملاقات بھی نہیں کریں گے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناراضیاں کچھ زیادہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی بڑی تبدیلی کا پییش خیمہ بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معمول کے مطابق یہ معاملات ناراضگیوں پر ختم ہو جائیں اور دوبارہ معاملات ٹھیک ہو جائیں۔ اس افواہ بارے کہ معاملہ صدارتی نظام کی طرف جا رہا ہے یا صدارتی نظام نافذ ہو گا اور ایمرجنسی کے بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی پیش گوئی مناسب نہیں آنے والے حالات سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کراچی ہے۔ لندن میں جو کچھ ہو رہا ہے

جس طرح سے شہباز شریف حکومت کی تبدیلی کی کوششیں کر رہے ہیں زیادہ بہتر نہیں ہو گا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس بنیاد پر اس معاملے کو لے۔ اگر واقعی نوازشریف اتنے بیمار تھے اور ان کو 2دن کے اندر بوسٹن پہنچنا تھا ان کے ٹیسٹ ہونا تھے۔ یہاں تو وہ ایک ایک گھنٹہ گن رہے تھے جبکہ وہ لندن جا کر فروکش ہو گئے ہیں باقاعدہ سیاست کر رہے ہیں حالانکہ ان کو منع کیا گیا ہے۔ کیا پی ٹی آئی کا سیاسی وِنگ کمزور پڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ڈلیور نہیں کر رہی ہے اور کارکردگی میں سب صوبوں سے پیچھے ہے مگر پی ٹی آئی وہاں ان کی پوزیشن کمزور نہیں کر سکی۔ سیاست میں بہت ساری باتیں کہی جاتی ہیں سب کی سب مانی نہیں جاتیں، بنیادی طور پر اپوزیشن مشکلات میں ہے اور اپوزیشن کا حکومت میں آنا اتنا ہی ضروری ہے تا کہ وہ سارا احتسابی عمل حتم کر کے دوبارہ معمول پھر لا سکے۔ اس لئے میرے خیال میں ٹائی اس بات پر پڑی ہوئی ہے کہ کیا اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے یا حکومت کامیاب ہوتی ہے البتہ حکومت نے ایک سال میں اتنی کوتاہیاں ہوئیں مثال کے طور پر مہنگائی صوبائی حکومتوں کا معاملہ ہوتا ہے پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت ہے حکومت ان دو صوبوں میں حالات کو مثالی نہیں رکھ سکی۔لہٰذا یہ لگتا ہے کہ عوام کی طرف سے جو عنصر پایا جاتا ہے وہ دراصل حکومت کی بیڈگورننس کی وجہ سے ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے

ایک خط لکھ کر صدر پاکستان کے پاس رکھ دیا ہے کیا صدر ان معاملات کو ڈیل کر لیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ وہ صدر پاکستان آخری آدمی ہیں ان کو ڈیل کرنا پڑے گا اس کے بعد تو پھر کوئی اور آدمی رہ نہیں جاتا۔ سیاسی منظر نامہ 50,50 کا معاملہ چل رہا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ اپوزیشن بہت مضبوط ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی کاررکردگی مثالی نہیں۔ صرف آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہی دیکھ لیں اس میں جتنی حکومت کی جتنی پوزیشن خراب عدلیہ کے سوالات نے کی اور کسی نے بھی نہیں کی۔ لہٰذا عدلیہ کے سوالات نے ثابت کردیا کہ حکومت جو ہے وہ اہل نہیں ہے حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ بات صحیح ہو۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہرحال اس کے باوجود مجھے وہ جونیئر کلرک بھی نظر نہیں آئے جن کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ہو۔ کہ ان کی وجہ سے مسودے میں غلطیاں تھیں یا بار بار اغلاط ہو رہی تھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ پرانی حکومت کا جو دور تھا اس میں وہ چھوٹا سا کام کرتے تھے اور بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے ایک سال میں خاص طور پر پبلسٹی اور پروجیکشن پر اتنی کم توجہ دی ہے کہ اب آ کر تھوڑی سی کمی پوری ہوتی نظر آتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کا جو سٹائل خاص طور پر پنجاب

میں رائج رہا ہے وہ یہ تھا کہ اگر کہیں چھوٹاسا بھی واقعہ ہو جاتا تو چیف منسٹر خود وقت پر پہنچ جاتا اور ہمارے جو موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب ہیں معلوم نہیں وہ بہت اچھا کام کر رہے ہوں وہ بالکل اس بات سے غیر متعلق ہیں کہ ان کو زیادہ پروا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں کیا ویلیو جا رہی ہے۔ اس وقت جو حالات نظر آ رہے ہیں تحریک انصاف کی لیڈر شپ کی غلطیوں یا کوتاہیوں کا تعلق ہے یا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ واقعی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ایک سال کے اندر حکومت کی وہ پوزیش ہو گئی ہے جو عام طور پر حکومت کے چوتھے سال میں ہوتی ہے۔ نئے الیکشن کا مطالبہ چوتھے سال ہوتا ہے جو ایک سال کے اندر ہی شروع ہو گیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کی شکایات ہیں۔ حکومت کیوں ساتھ نہیں رکھ سکی۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی ہو یا ن لیگ ہو کا جو نقطہ نظر جلد سے جلد اس حکومت کا خاتمہ ہے تا کہ اس حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی رہائیاں عمل میں آئیں گی اور نیب کا خاتمہ ہو گا اور ان کے لئے مشکل وقت ختم ہو جائے گی۔ وہ سیاست نہیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ نوازشریف کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ جلدی امریکہ پہنچا تھا لیکن اتنی دیر سے لندن میں اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ ایک طریقے سے دونوں طرف مقابلہ ہے حکومت کے مقابل وہ ساری فورسز ہی پیپلزپارٹی، ن لیگ، فضل الرحمان، جماعت اسلامی بی این پی، متحدہ لندن بھی اس میں موجود ہے کہتے یہی ہیں کہ ہمارا ایم کیو ایم لندن سے تعلق نہیں ہے لیکن بہت لوگ جانتے ہیں کہ بہت گہرے رشتے دونوں کے درمیان استوار ہیں۔ اب اصل میں مکمل طور پر اکیلی کھڑی ہے اور حلیف جماعتیں زیادہ سے زیادہ اپنی شرائط منوانے کے لئے ان کو کمزور حالت میں دیکھنا چاہتی ہیں اور اپنی باتیں منوانا چاہتی ہیں، اگر کچھ لوگ حکومت سے ناراض ہیں تو دوسری طرف بھی جا سکتے ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت بہت کم مارجن پربنی تھی۔تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ کامیاب ہو گی یا نہیں ہو گی اگر ایسا ہوا تو سارا پانسہ ہی پلٹ جائے گا اور جو آج ولن ہیں وہ کل کے ہیرو ہوں گے جو آج کے ہیرو ہیں وہ کل کے ولن ہوں گے۔ جس طرح سے نیب کے سرکردہ لوگوں کو نیب کا سست روی کا اندازہ ہے سال گزرنے کے باوجود وہ کوئی زیادہ نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ نظر آ رہا ہے کچھ بھی نہیں ہو رہا حالانکہ بہت کچھ ہو بھی رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں