پھر یوں ہوا کہ پنجاب اسمبلی میں بڑے بڑے پول کھلنے لگے۔۔۔آج ایوان اچانک مچھلی منڈی کی منظر کشی کیوں کر رہا تھا؟ تہلکہ خیز تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں آٹے اور چینی سے بات ذاتیات تک پہنچ گئی،چینی اور آٹا بحران کی گونج کے ساتھ ساتھ ٹک ٹاک سٹاراور ماضی کی نامورگلوکار ہ کےبھی چرچےہوئے،حکومت اوراپوزیشن کےآمنےسامنےہونےکی وجہ سےایوان مچھلی منڈی بن گیا،اپوزیشن کی جانب سےصوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کیخلاف ٹک ٹاک سٹار سے منسوب نعرے لگائے گئے

جس کے جواب میں فیاض الحسن چوہان نے بھی انہیں ماضی کی نامور گلوکارہ کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو یاد ہے کہ میں یاد کراؤں کہ آپ کا لیڈر نواز شریف ان کو گانے سنایا کرتا تھا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے 2گھنٹے5منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمدمزاری کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری ساجد بھٹی نے محکمہ سکولزایجوکیشن کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئیے۔اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن کی نشاندہی پر ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ کو منانے کے لئے صوبائی وزرا فیاض الحسن چوہان،چوہدر ی ظہیر الدین،چوہدری محمداقبال گجر اور رانا محمد اقبال پر مبنی پارلیمانی وفد بھیجا جوحسن مرتضیٰ کو بھوک ہڑتال ختم کرا یک ایوان میں لایا۔رانا مشہودنے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اندر بے شمار سکینڈلزسامنے آرہے ہیں،فیاض الحسن چوہان الفاظ کا بہتر چناؤ نہیں کرتے،ہمارے گریبان کی بجائے یہ خود اپنے گریبان میں جھانکیں،فیاض الحسن چوہان کی وجہ سے ایوان کا ماحول خراب ہوتا ہے۔کشمیر، آٹے کے بحران اور امن و امان کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرسرداراویس لغاری نے کہا کہ جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے،عوام آپ کو جوسنانا چاہتی ہے اس کو برداشت کریں،عوام کی آواز پر ان کے مسائل کا حل کریں،کشمیر کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے،وہاں پر زندگی سسک رہی ہے،ہم کچھ نہیں کر رہے،وزیراعظم کی تقریر کو ورلڈ کپ کی

طرح پیش کیا گیامگر حاصل کیا ہوا کچھ نہیں۔ خارجہ امور میں ناکامیوں سے اقوام عالم میں ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا،ہم کوالالمپور سمٹ میں وعدہ کرنے کے باوجود نہیں گے،جس سے ہماری خارجہ پالیسی کوشدیدنقصان پہنچایا،وزیراعظم عمران خاں کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے سامنے لیٹ گئے ہیں،پی ٹی آئی کی حکومت انٹرنیشنل کمیونٹی کو کشمیر پر ساتھ نہیں ملا سکی۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گی،وزیراعظم کی ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں سے بھی کچھ حاصل نہیں کیا جاسکا،وزیراعظم کا گھر دو افراد پر مشتمل ہے لیکن ان کا دو لاکھ میں گزارا نہیں ہورہا،مہنگائی سے لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں مگر حکمران سوئے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی کو اپنی قبر میں سکون چاہیے تو لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہوگی،وسیم اکرم پلس نے کل ڈیرہ غازی خاں میں بیان دیا کہ آٹے کا مصنوعی بحران ہے،پہلے گندم بیرون ملک بھیجی اور اب کیوں درآمد کررہے ہیں؟چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ آٹے پرجو رٹ دائر ہوئی ہے اس کی جلد سماعت شروع کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اب پنجاب میں چینی کا بحران شروع ہوگیا ہے،چور چور سے تھک کر اب مافیا مافیا کی رٹ سنائی دے رہی ہے،موجودہ حکمرانوں کو عوام کا احساس ہی نہیں،جینا اور مرنا مہنگا کردیا ہے،حکمرانوں نے دین کو بھی نہیں چھوڑا، حج بھی مہنگا کردیا گیا ہے،بجلی،گیس، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں،خودکشیاں بڑھ گئیں ہیں،پنجاب میں تجربے کئے جارہے ہیں،گورنر خود کہہ رہے ہیں کہ سارا اختیار آئی جی اور چیف سیکرٹری کے پاس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں