بظاہر سادہ نظر آنے والا پنجاب اسمبلی میں فارورڈ بلاک کا معاملہ پی ٹی آئی پنجاب کا کس طرح بیڑہ غرق کرنے والا ہے ؟ بڑا سیاسی تہلکہ

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ایک سادہ اور خاموش شخصیت کے مالک واقع ہوئےہیں مگر جب کبھی معاملہ امور حکومت سنبھالنے اور اختیارات کا استعمال کا ہوتو معاملات کو اپنی گرفت میں رکھنے کےلیے سیاسی طورپر مضبوط , متحرک اور قوت فیصلہ کے حامل لوگ اپنےماتحت افراد سے بہتر کارکردگی

اور نتیجہ خیز ٹیم ورک کا حدف حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارکاپہلامسئلہ روایتی کردارکی حامل”افسر شاہی” یعنی بیوروکریسی ہےجو کافی اثرورسوخ کی حامل رہی ہے،وہاں صوبائی کابینہ اوراعلیٰ سرکاری افسران کے درمیان فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کبھی کبھی رشہ کشی کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ان کے وزراء اس وقت ایسی ہی صورتحال سے دوچارہیں ۔ پنجاب میں تازہ ترین اعلیٰ سطحی تقرریوں اور تبادلوں سے کافی حد تک’اِن ہاوس ‘ تبدیلی آچکی ہے,جس کا تذکرہ میں کافی تفصیل سےاپنی ایک تحریرمیں کئی تحفظات کااظہار کرچکی ہوں،اس وقت اگر ایسے نامناسب فیصلے نہ لیے جاتے تو یقیناً آج یہ صورتحال درپیش نہ ہوتی۔دوسرا سب سے بڑا مسئلہ اراکین پنجاب اسمبلی کو بروقت ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہوپاناہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی وزیراعظم عمران خان کو ایک پبلک خط کے ذریعے آگاہ کرچکے ہیں۔اِسی تناظر میں پنجاب اسمبلی کے 20 پی ٹی آئی اراکین نے ایک فارورڈ بلاک بنایا ہے۔ بظاہر ایسا لگتاہے کہ یہ فارورڈ بلاک اراکین پنجاب اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دلانے کےلیے بناہےمگر معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے جتنا کہ دکھائی دے رہاہے۔اگرگورنر پنجاب کے حالیہ بیانات کو دیکھا جائے تو پنجاب کابینہ اور افسر شاہی کے درمیان بڑھتی خلیج کی نشاندہی کےلیےکافی ہے لہذٰا بعض حلقوں میں یہ خیال ظاہر کیاجارہاہےکہ یہ ” فارورڈ بلاک ” وزیراعلی پنجاب کی تائید وحمایت کےلیے بناہےتاکہ عثمان بزدارکی امورِ حکومت پر گرفت مزید مضبوط ہوسکے۔ اس کےعلاوہ پنجاب میں بعض سرکردہ شخصیات جوڑتوڑ کی سیاست میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں