پٹواریوں نے کہرام مچارکھا ہے !! اہم ترین کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال کے دبنگ ریمارکس

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے پٹواریوں ، تحصیل داروں اور قانون گو کے اختیارات کیس کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبوں سے قانون سازی کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے شہری علاقوں میں پٹوار خانے ختم کرنے کے

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی مقدمے کی درخواستوں کی سماعت کی تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے سماعت سے معذوری ظاہر کرلی جس پر بینچ تحلیل ہو گیا، معاملہ نئے بینچ کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا ہے ۔ دوران سماعت خیبر پختونخوا حکومت کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کے پی کے حکومت نے بیشتر اضلاع کا اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر لیا،اب عوام کو پٹوار خانوں میں نہیں جانا پڑتا۔پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ پنجاب میں نئے قانون کے تحت اراضی مراکز قائم ہو چکے ہیں جبکہ بلوچستان حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد بلوچستان میں انتقالات کا سلسلہ رک چکا ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ تین صوبوں کی نظرثانی درخواستوں کو بھی تفصیل سے سنیں گے ،شہری علاقوں میں پٹواریوں نے کہرام مچا رکھا ہے ، جو قانونی مسائل سامنے آئے ان کا حل نکالیں گے ، ہم پورے ملک میں شفاف نظام چاہتے ہیں ۔علاوہ ازیں عدالت عظمٰی نے پولی کلینک ہسپتال اسلام آباد توسیع کیس نمٹادیا ۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس نمٹاتے ہوئے آبزرویشن دی کہ معاملے کا از خود نوٹس اس لئے لیا گیا تھا تاکہ ہسپتال کی توسیع کا معاملہ حل ہوجائے ۔دریں اثناعدالت عظمیٰ نے نیشنل کمانڈ اینڈ اتھارٹی ترمیمی ایکٹ 2016ء سے متعلق تمام درخواستیں نمٹا دیں۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ درخواست گزار متعلقہ فورم ہائیکورٹ سے رجوع کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں