کسی کو بھی مذہبی منافرت کی اجازت نہیں دے سکتے۔۔۔!!! سوشل میڈیا ایکٹ کیوں لایا جا رہا ہے؟ جان کر آپ بھی عمران حکومت کو داد دیں گے

اسلام آباد( ویب ڈیسک) تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ ہم آزادی رائے کے حق میں لیکن قانون کے دائرے سے باہر نکلنے کی کسی کو اجازت نہیں، ہم تو آزادی صحافت کے حق میں ہیں، پی ٹی وی جو پچھلی حکومتوں کی باندی بنا ہوا تھا ہم نے اسے آزاد

کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ اسکا مقصد سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت، نفرت انگیز تقاریر اور اقلیتوں سے متعلق اشتعال انگیزی پھیلانے والے عناصر کا خاتمہ ہے۔ ہمارا یہ قانون لانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کا غلط استعمال نہ کریں۔ ہم نے تو ن لیگ کے بنائے قانون پر ہی پالیسی بنائی ہے۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدام بدترین آمریت کی مثال ہے یہ اس میں بری طرح ناکام ہونگے۔ انہوں نے پہلے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے، اب سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ جب انکی کاروائیاں انتہا کو پہنچیں گی تو ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہوگا۔یادرہے کہ اس نئے قانون پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ اس قانون کی مدد سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں پابند کیا جارہا ہے کہ وہ صارفین سے متعلق معلومات دیں ۔۔ سوشل میڈیا کمپنیاں کیوں ایسی معلومات دیں۔سوشل میڈیا ماہرین کے مطابق ڈاکومنٹ کی ٹون دھمکی آمیز ہے اور یہ تک کہہ دیا گیا ہے کوئی بیرون ملک سے بھی پاکستانی اداروں کے خلاف پوسٹ کرے تو وہ بھی قانون کی زد میں آئے گا۔دوسری جانب ڈیجیٹل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات صارفین کے ذاتی تحفظ اور پرائیویسی کو خطرے میں ڈال دیں گے ۔ ان کمپنیوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور مشاورت کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں