ہتھیار ایک مگر چلانے کا انداز مختلف۔۔۔کپتان کی AK-47 اور زرداری کی AK-47 میں کیا بڑا فرق ہے ؟دلچسپ تفصیلات

اسلام آبا د(ویب ڈیسک)وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اینکر پرسن وسیم بادامی کے سوال پر حیران کن جواب دے دیا ۔نجی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں وسیم بادامی نے سوال کیا کہ حفیظ شیخ آپ کے پاس ہوں تو اچھے، ذرداری صاحب کے پاس ہوں تو برے۔۔کیسے؟۔اس پر جواب

دیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ AK-47 جب دہشتگرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو ملک کو تباہ کرتا ہے، محافظ کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو ملک کو بچاتا ہے۔ وہ ہی حفیظ شیخ صاحب جب زرداری صاحب کے پاس تھے تو وہ انہیں صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے کچھ اور کرنا تھا ،عمران خان کا ایجنڈہ کچھ اور ہے ۔وسیم بادامی نے کہا تو پھر اسد عمر صاحب کیوں اچھے نہیں چلے ،وہ تو عمران خان صاحب کے پاس اپنا AK-47تھا ؟اس پر علی محمد خان نے کہا کہ کبھی کبھی آپ کو اپنا بہترین اسلحہ سنبھال کر بھی رکھنا پڑتاہے ۔اس پر وسیم بادامی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تو کیا وہ شب معراج پر چلانے کے لیے رکھا ہے ؟اس دوران پروگرام میں موجود نبیل گبول اور محمد زبیر بھی مسکراتے رہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اینکر پرسن سلیم صافی نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کی تو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کرارا جواب دے دیا ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلیم صافی نے کہا کہ عمران خان کی طرح نہ وعدہ خلافی کرکے ڈی چوک آئے، نہ پارلیمنٹ پر حملہ کیا،نہ سپریم کورٹ پر گندے کپڑے لٹکائے ، نہ پی ٹی وی کے اندر گھسے، نہ سول نافرمانی کا اعلان کیا،نہ بجلی بل جلائے،نہ ایمپائر کے اشارے پر ناچے اور نہ سرکاری افسران کو دھمکیاں دیں۔یوں مولانا کے خلاف آرٹیکل۶ تو بنتا ہے۔اس پر جواب دیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ بھائی آخری اطلاع آنے تک تو آپ صحافی تھے ،وکالت کب سے شروع کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں