نواز شریف تُرک صدر رجب طیب اردگان سے کونسی ’ ٹِپس‘ لیا کرتے تھے؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ترک صدر سے ٹیپس لیا کرتے تھے نواز شریف ان سے پوچھا کرتے تھے کہ انھوں نے ترکی کے اندر بغاوت پر قابو کس طرح

سے پایا، اس حوالہ سے وہ طیب اردوان سے ہی مشورہ لیتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ طیب اردوان انکے بہت زیادہ قریب تھے اور ترکی کے ساتھ پنجاب کے بہت زیادہ معاہدے چل رہے تھے۔ان میں صفائی کرنے والی ترکی کمپنی بھی شامل تھی اور اسکے علاوہ ترکی کے اشتراک سے پنجاب میں تعلیمی ادارے بھی کام کر رہے تھے۔انکا کہنا تھا کہ ترک صدر طیب اردوان کے دورے کے بعد اب وزیراعظم کیلئے اندرونی بحران کھڑا ہونے کو ہے۔عمران خان نے مولانا فضل الرحمان پر آرٹیکل 6 لگانے کا بیان دیا ہے، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل آیا ہے، اپوزیشن اب حکومت پربھرپور فائنل وار کرے گی، جس کی اپوزیشن نے تیاری شروع کردی ہے۔عمران خان نے کہا کہ فوج میرے ساتھ ہے، پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں جبکہ میں کرپٹ نہیں ہوں، اگر دیکھا جائے تو عمران خان کے اس بیان کا کیا مطلب ہے؟ فوج تو سب کے ساتھ ہوتی ہے۔پہلی بات یہ ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سیاسی معاملات میں فوج کو نہیں لانا چاہیے۔موجودہ حالات میں تو بالکل نہیں ایسی سیاست ہونی چاہیے۔ملک میں عدم استحکام اور ہیجان تو موجود ہے۔انہوں نے ترک صدر کے حوالے سے کہا کہ ترک صدر کا پاکستان کا چوتھا دورہ تھا ، پہلا دورہ مشرف کے دور میں ہوا۔پھر زرداری اور نوازشریف کے دور میں پاکستان آئے۔یہاں سے پتا چلتا ہے کہ ریاستیں اپنی معاشی مضبوطی کیلئے کس طرح کام کرتی ہیں۔ترک صدر یہ دورہ پاکستان بڑے عجب وقت میں ہوا، جب خطے کے حالات کشیدہ ہیں۔پھریہ دورہ اس وقت ہو ا جب آئی ایم ایف کے حفیظ شیخ ، رضا باقر یہاں بیٹھا ہوا ہے ، کچھ چلے گئے ہیں۔آئی ایم ایف نے 5500ارب کا جو ٹیکس ہدف دی تھا حفیظ شیخ نے اس میں اس کو 5.2کروایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بڑی مہنگائی آئے گی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے لوگ مرجائیں گے، خان صاحب کہتے آٹاچینی اسکینڈل میں ہمارے لوگ ملوث نہیں۔حالانکہ ان کے وزراء کہہ رہے ہیں کہ ملوث لوگ اندر موجود ہیں، وزراء ابھی کہتے ہیں کہ جہانگیرترین اور خسروبختیار والی رپورٹ آجائے۔عمران خان نے اچھا کیا کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کی شرط رکھی۔اگرچہ آئی ایم ایف کا وفد چلا گیا لیکن جو اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی معاملات کو دیکھیں گے، آئی ایم ایف کی جانب سے بڑی دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ چین کے ساتھ تجارت کو کم کریں، چین کے ساتھ معاشی انحصار کم کرکے ہی پاکستان معاشی بحرانوں سے نکل سکتا ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔جبکہ طیب اردوان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں