کب تک بھاگو گے۔۔۔۔ سٹے آرڈر ختم ہوتے ہی اسحاق ڈار کے گھر کا کیا کیا جائے گا ؟ حکومت نے (ن) لیگ کو بڑا جھٹکا دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ عدالت نے پنجاب حکومت کو اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کی ملکیت سے بے دخل نہیں کیا،ہماری حکومت نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر سرکاری دفتر بنانے کی بجائے غرباء کیلئے

وقف کیا،سٹے ختم ہونے کے بعد رہائش گاہ کو آئین و قانون کے مطابق پھر پناہ گاہ میں بدل دیں گے۔وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کے سامنے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسحاق ڈار نے 130ارب روپے کی کرپشن کی، آل شریف کے فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔عدالت نے وقتی طور پر سٹے دیا ہے، سٹے کے باعث پناہ گاہ سامنے پارک میں منتقل کی ہے۔وزیراطلاعات پنجاب نے کہاکہ اسحاق ڈار کی آل شریف کیلئے خدمات کی وجہ سے شہبازشریف پنجاب حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔زرداری، مولانا فضل الرحمن، شریف برادران سب کو غریبوں کیلئے پناہ گاہ بنانے پر پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔آل شریف کو مستقبل میں جاتی عمرہ میں بھی پناہ گاہ بنتی نظر آ رہی ہے۔زرداری صاحب کو اسلام آباد کے زرداری ہائوس کی فکر پڑ گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار غریبوں سے محبت کی بناء پر تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ اسحاق ڈار کی اہلیہ نے جھوٹ بولا کہ رہائش گاہ ان کے نام ہے۔یہ پناہ گاہ تمام مستحق اور نادار افراد کیلئے قائم کی گئی ہے، علاقے کی قید نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آٹے اور چینی کے بحران کے پیچھے اپوزیشن کی سازش اور پلاننگ ہے۔سندھ کے گوداموں سے 80فیصد گندم چوری کی گئی جس سے آٹے کا بحران پیدا ہوا۔صوبائی وزیر نے کہاکہ صرف 12فیصد شوگر ملیں پی ٹی آئی کے لوگوں کی ہیں۔72فیصد شوگرملوں کے مالکان اپویشن کے لوگ ہیں۔وزیراطلاعات پنجاب نے کہاکہ پنجاب میں آٹے کا کسی قسم کا بحران نہیں۔عمران خان کے وژن کی بدولت پاکستان میں عالمی کھیلوں کے مقابلے شروع ہوئے۔پارک میں پناہ گاہ کے قیام کے بارے میں عدالت کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں