کیا اسلام نے بانجھ عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا ہے؟ علماء کی تعلیمات کے پس منظر میں شاندار تحریر

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 15 فیصد جوڑے بانجھ پن سے متاثر ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ایک المیہ بھی موجود ہے کہ زیادہ تر جوڑے تشخیص و علاج کو ترجیح نہیں دیتے۔ اس جدید دور میں ایسے پڑھے لکھے خاندان اب بھی موجود ہیں

جو بانجھ پن کو عزت کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور بجائے تشخیص و علاج کے کسیایک بالخصوص خاتون کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو بانجھ عورت کیساتھ شادی کرنے سے منع کیا ہے اور اس حوالے سے ایک حدیث بھی سنائی جاتی ہے جو کچھ اس طرح ہے کہ ”معقل بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ایک خاتون ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے پیدا نہیں ہوتے،کیا میں اس کیساتھ شادی کر لوں ؟ آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔وہ شخص دوسری مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آیا لیکن آپ نے پھر اسے منع فرما دیا۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ نے ایک مرتبہ پھر منع کیا اور فرمایا کہ زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ، کیونکہ میں تمہارے ذریعے کثرت تعداد میں (دیگر اقوام پر) غالب آنا چاہتا ہوں۔“ مسلمان علماءکرام اس حدیث مبارکہ کی وضاحت کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ یہ حدیث مبارکہ اس وقت سامنے آئی جس مسلمان تعداد میں بہت تھوڑے رہ گئے تھے اس لئے امت مسلمہ میں اضافے کیلئے بچے جننے والی عورت سے شادی کرنا ضروری تھا۔ علماءکرام یہبھی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بچے جننے والی عورت کیساتھ شادی کو واجب قرار نہیں دیا بلکہ بچے جننے والی عورت کیساتھ شادی کرنا مستحب ہے۔ اگر

اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہی ہے کہ بانجھ عورت کیساتھ شادی نہ کی جائے تو پھر مردوں کیلئے بھی ایسا ہی ہے کیونکہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ”وہ (جسے چاہے) بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے وہ یقینابڑا جاننے والا ، قدرت والا ہے۔“یہ سب جاننے کے بعد مندرجہ بالا حدیث کا اپنی مرضی کے مطابق مفہوم نکالنا ناانصافی ہے بلکہ عورت سے نفرت کرنے والی ذہنیت کا اظہار بھی ہے۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کو ام المومنین تسلیم کرتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ان میں سے اکثر بانجھ تھیں؟ اور ہم حضرت آسیہ بی بیؓ کو کیسے بھول سکتے ہیں جو فرعون کی زوجہ تھیں اور ساری زندگی حاملہ نہیں ہوئیں؟ لیکن اللہ سبحان و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے کہ ”اور اللہ نے مومنین کیلئے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کی ہے، اس نے دعا کی: اے میرے پروردگار! جنت میں میرے لئے اپنے پاس ایک گھر بنا اورمجھے فرعون اور اس کی حرکت سے بچا اور مجھے ظالموں سے نجات عطا فرما۔“مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں بانجھ عورت کی تذلیل کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، اگر وہ نیک ہیں اور معاشرے میں تعمیری کردار ادا کر رہی ہیں تو انہیں بہترین مسلمان سمجھا جائے اور یہ سب اس لئے ہے کیونکہ یہی اللہ کا حکم ہے جو اس کائنات کا خالق ہے۔بانجھ عورت سے شادی کے حکم کے حوالے سے جامعہ بنوریہ عالمیہ (سائٹ ٹاؤن کراچی) کے فتویٰ کا عکس ذیل میں دیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں