ماہ رمضان مسلمانوں سے کیا توقعات رکھتا ہے؟ ایمان افروز تحریر

“اگر مساجد میں عبادات جاری ہیں اور اہل محلہ کی معاشرتی زندگی میں اصلاح کا عمل نہیں پیدا ہوتا تو ایسی عبادت قابل غور ہے، نماز کا مدعا صرف نماز ادا کرنا ہی نہیں بلکہ نماز کے انداز اور مفہوم کو زندگی میں رائج کرنا ہے، اگر زندگی سماجی قباحتوں میں بدستور

ادا کی جا رہی ہے۔ تو ایسی صورتحال پر بڑا غور ہونا چاہیے”۔ حضرت واصف علی واصف رح یہ معاملہ محض نماز کے ساتھ ہی نہیں بلکہ جملہ عبادات کا ہے۔ ہم سب رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں اللہ نے اس قرآن کو نازل کیا۔ اور ہم پر روزے فرض کیے۔ روزہ کیا ہے؟ ہم مسلمان جتنا بھی غور و خوض کر لیں لیکن ہم اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ صرف بھوک اور بھُوگ پہ کنڑول ہی دو ایسی چیزیں ہیں جو روزے کے ساتھ مخصوص ہیں۔ باقی کوئی ایسا کام نہیں جو عام ایام میں تو جائز ہو لیکن رمضان میں اس کی ممانعت ہو۔ بھوک یعنی روزے کی حالت میں کھانے پینے سے پرہیز، بھوگ یعنی روزے کی حالت میں مباشرت سے پرہیز۔۔۔ اس کے علاوہ جملہ اعمال چاہے سچ ہو، امانت داری ہو، صبر ہو، در گزر ہو، برداشت ہو، صلح رحمی ہو، آپ کوئی عمل اٹھا کر دیکھ لیں وہ غیر رمضان بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ رمضان میں۔ لیکن ہم نے اپنے فہم یا سنی سنائی تعلیمات پہ بہت سی چیزوں کو محض رمضان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ رمضان کی نشریات جو ٹی وی پر بھی آتی ہیں ان میں خواتین سروں کو ڈھانپے ہوئے ہیں۔ حالانکہ سر کو ڈھانپنا محض رمضان میں ضروری نہیں۔ بلکہ یہ عبادات تو اس چیز کی پریکٹس ہوتی ہیں کہ ہم زندگی میں جن اچھائیوں کو اپنا نہیں رہے یا ہم جس

راستے پہ چل نہیں پا رہے عبادات ہمیں اس راستے پہ چلا دیں۔ جبکہ ہم نے اس کے الٹ عبادات کو روزمرہ سے یکسر علیحدہ کر دیا۔جملہ عبادات دراصل ایک پریکٹس ہے ایک تربیتی عمل ہے۔ جس سے حاصل سبق کو بالآخر ہمیں اپنی زندگیوں میں لانا ہے اگر عبادات کا اثر زندگی میں نہیں آ رہا تو بقول حضرت واصف علی واصف رح یہ عبادات قابل غور ہیں۔ ہم تربیتی عمل تو بڑی یکسوئی سے اور محنت سے کرتے ہیں لیکن زندگی میں جہاں اس عمل کا اطلاق ہونا ہے وہ زندگی اطلاق سے یکسر خالی ہے۔ رمضان میں اپنے معمولات کو اور عبادات کو ہی دیکھ لیں۔ “ارے جھوٹ نہ بول تیرا روزہ ہے” تو کیا روزے کے بعد جھوٹ بولا جا سکتا ہے؟ “ارے رمضان میں کم تولتا ہے” کیا رمضان کے علاوہ کم تولا جا سکتا ہے؟ محو حیرت ہوں کہ رمضان میں مسجدیں بھی بھری ہوئی ہیں اور کاروباری لوگوں کے گودام بھی۔ ذخیرہ اندوزی محض چند ہزار کے لیے کی جاتی ہے اور اس کے جواز تراشے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ کس کو بیوقوف بناتے ہیں؟ یقیناً خود کو۔ کیا رب علیم و خبیر نہیں ہے؟ ذخیرہ اندوزی کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے تاجر “رمضان اور عید کا سیزن” لگاتے ہیں۔ اور پھر ایک مسجد میں تراویح پڑھانے والے کو بیس ہزار بھی دے دیتے ہیں۔ یہ لوگ کس کو دھوکہ دیتے ہیں؟یہاں نماز کے آخر میں دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر کر “سلامتی بھیجنے” والا مسجد سے باہر نکلتے ہی لوگوں کی

زندگیاں مشکل کر رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں رب کو راضی کر آیا ہوں۔ رب نے عبادت کے ذریعے جو پیغام دیا جب وہ پیغام ہے نظر انداز ہو گیا تو رب کیسے راضی ہو گا؟ شعبان کے دوسرے ہفتے سے لوگ بینکوں میں بھاگنا شروع کرتے ہیں کہ کہیں زکوة نہ کٹ جائے۔ طرح طرح کے عذر تراشے جاتے ہیں۔ شاید آپ خود سے زکوة دے رہے ہوں لیکن سماج کو فرق نہیں پڑ رہا۔ کیوں؟ یہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو غریب کی زمین ہتھیا کر غریبوں کے لیے دسترخوان لگا دیتے ہیں۔ عجیب تضادات کے ساتھ ہماری عبادات بھی جاری و ساری ہیں اور لوگوں کے ساتھ فراڈ بھی۔ زکوة ترغیب ہے سارا سال صدقہ و خیرات کرنے کے لیے۔ یہ ایک پریکٹس ہے کہ دولت کی محبت نہ رہے۔ لیکن ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو زکوة نہیں دیں گے، صدقہ کر دیں گے۔تضادات ہی تضادات ہیں۔ مساجد بھی بھری ہوئی ہیں اور تاجروں کے گودام بھی۔ ابھی یہی لوگ پیسہ نکالیں گے مسجدوں پہ قمقمے لگیں گے اور شبینے کی محافل ہوں گی۔ روزہ دار ہر طرف ہیں لیکن صبر ، برداشت اور تحمل ناپید۔۔۔ اپنا گھر میں بھائی بہن سے جھگڑا ہے زمین کا، جائیداد کا جھگڑا، لیکن زکوة کے لیے مستحقین ڈھونڈے جا رہا ہے۔ اپنی بھائی کی زمین ہتھیا رہے ہیں۔ اور تیسرے محلے کسی کی مدد کر رہے ہیں۔تضادات ہی تضادات ہیں۔۔۔ تھوڑا زندگیوں پہ غور کریں اور ان عبادات پہ بھی جن کے نتائج سے ہم محروم ہیں۔ اس بار رمضان میں صرف یہی سوچیں اور خود کو بدل لیں یہی رب کی منشا ہے اور یہی اس ماہ مقدس کی اپنے روزہ داروں سے توقع۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں