مہاتیرمحمد: پاکستان وفلسطین کا بے مثال دوست، انہوں نے کیا شاندار کارنامے کیے ؟

گزشتہ دنوں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے میں مہمان وزیراعظم کو ملک میں شایان شان پروٹوکول دیا گیا۔ یقیناً وہ اسی کے مستحق تھے۔ مہاتیر محمد بظاہر بہت ضعیف العمر شخص نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ توانا اور طاقتور نظر آنے والے مسلمان

رہنماؤں سے کئی گنا زیادہ مضبوط اور طاقتور انسان ہیں۔مہاتیر محمد کی پاکستان سے دوستی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جب وہ پاکستان کے دورے پر تشریف آور ہوئے تو اس وقت خبریں گردش کررہی تھیں کہ بھارت نے سفارتی ذرائع سے مہاتیر محمد کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ منسوخ کردیں یا کم سے کم ملتوی ہی کردیں۔ لیکن جواب میں مہاتیر محمد نے اس بات کا بالکل خیال نہیں رکھا کہ بھارت سے ان کے تعلقات خراب ہوجائیں گے یا نہیں۔ انہوں نے پاکستان سے اپنی والہانہ محبت اور اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا دورہ کرنے کا اصولی موقف اپنائے رکھا اور بھارتی حکمرانوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔مہاتیر محمد نے پاکستان کا دورہ ایسے وقت میں کیا جب قرارداد پاکستان کی یادگار منانے، یعنی 23 مارچ کی رسومات کی ادائیگی ہونا تھی، اور یہ بھی طے تھا کہ مہمان وزیراعظم افواج پاکستان کی پریڈ کا معائنہ بھی کریں گے اور اس تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ جبکہ دوسری طرف بھارت کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح پاکستان کے اس قومی دن کو خراب کیا جائے۔ جس کےلیے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں نے کارروائیاں کرکے اس دن کی اہمیت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کی۔ دوسری طرف یہ تاثر بھی عام تھا کہ شاید بھارت یوم پاکستان کے موقع پر اسلام آباد یا کسی اور شہر کو نشانہ بناسکتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود مہاتیر محمد کی پاکستان سے بے مثال دوستی میں کوئی دراڑ نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں