حضرت سخی لعل شہباز قلندر کے بارے ایسے حقائق جن سے آپ لاعلم ہونگے

لعل شہباز قلند ر کے نام سے شہرت پانے والی بزرگ ہستی کا نام ان کے والد نے سید عثمان رکھا مگر بعدمیں انہوں نے لعل شہباز قلند رکے نام سے دنیا میں شہرت پائی۔ آپ کی ولادت آذر بائیجان کے گاؤں مروند میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام جعفر

صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے۔س طرح ہندوستان میں حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری کی وجہ سے اجمیر کو شناختحاصل ہوئی ہے اسی طرح سندھمیں سیہون شریف کو حضرت لعل شہباز قلندر کی وجہ سے غیر معمولی عظمت حاصل ہے۔ سر زمینِکی بھی یہ بڑی خوش نصیبی ہے کہ عالمِ اسلام کے مختلف علاقوں سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے مقرب اور برگزیدہ بندے یہاں تشریف لائے اور رشدوہدایت کے دریا جاری یے۔ ان بزرگانِ دین نے اپنے علم وعمل کی روشنی کی روشنی سے صرف سرزمین سندھ کوہی نہیں بلکہ گردونواح کو بھی منور کیا۔باب الاسلام! سندھ میں ہزاروں بزرگانِ دین، ولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کا سلسلہ رشد وہدایت فیوض وبرکات جاری رہا ۔آذربائیجان کے ایک چھوٹے سے قصبے مروند میں حضرت کبیر الدین احمد تقویٰ اور پرہیزگاری میں پنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت سید محمد کبیرا لدین احمد شاہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔آپ کی اہلیہ اس مسئلہ کی وجہ سے اْداس رہنے لگی تھیں۔ سید محمد کبیر الدین ہر شب تہجد کے بعد بارگاہِ ایزدی میں مناجات کرتے اور ایک حالتِ گریہ طاری ہوجاتی۔ ایک شب اْنہوں نے خواب میں حضرت علیؓ کو دیکھا اور عرض کی ‘‘یا امیر المومنین! آپ میرے حق میں اللہ تعالیٰ سے اولاد کے لئے دعا کیجئے کہ وہ مجھے فرزند عطا فرمائے’’۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تسلی دیتے ہوئے آپ کو ایک فرزند کی بشارت دی۔کچھ عرصہ بعد570 یا 573ھ بمطابق 1177ء میں سیدکبیرالدین احمد کے گھر ایک فرزند کی ولادت ہوئی جس کا

نام ‘‘محمد عثمان’’ رکھاگیااسے آنے والے زمانے میں آسمانِ ولایت کا ہباز بننا تھا۔محمد عثمان کی ابتدائی تعلیم آپ کی والدہ ماجدہ کی نگرانی میں ہوئی۔ سات برس کی عمر میں کلام پاک حفظ کرلیا۔ حضرت شیخ منصور کی نگرانی میں علومِ ظاہری کی تکمیل کی۔ عربی اور فارسی زبانوں میں آپ نے بہت کم عرصے میں خاصی مہارت حاصل کرلی۔ آپ کی والدہ صاحبہ آپ کی اوائل عمری میں وفات پاگئیں اور والد کا سایہ ھی والدہ کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد آپ کے سر سے اْٹھ گیا۔ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد آپ کا میلان طریقت و معرفت یعنی روحانی علوم کی طرف ہوا ،چنانچہ آپ ے اس تعلیم کے لیے مروند سے سبزوار کا بھی سفر کیا۔ ان دنوں وہاں جلیل القدر شخصیت سید ابراہیم ولی مقیم تھے۔ آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے۔ آپ بڑے ابد وزاہد اور جیّد عالم تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر حضرت ابراہیم ولی کی خدمت میں رہ کر تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابراہیم ولی نے حضرت لعل شہباز قلندر کی صلاحیتوں کو پرکھ کر جلد ہی مشائخ اور علماء کی ایک محفل میں حضرت لعل شہباز قلندر کو خلافت کی دستار سے نواز دیا۔ غیبی اشارہ ملنے پر اپنے وطن مروند سے عراق تشریف لے گئے اور وہاں سے ایران تشریف لائے۔ حضرت امامِ رضا سے روحانی وقلبی وابستگی کی وجہ سے آپ کے مزارپر انوار پر حاضر ہوئے۔ چندروز تک مراقبے کا سلسلہ جاری رہا،آپ کو باقاعدہ گوشہ نشینی کا حکم ہوا۔ آپ خانقاہِ رضویہ میں مصروفِ عبادت

رہے یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رہا اور آخری ایّام میں آپ کو حکم ہو ا کہ ج بیت اللہ اور زیارتِ روضہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف حاصل کریں۔اس طرح آپ امام رضا سے روحانی اجازت ملنے کے بعد حجازِمقدس روانہ ہوگئے۔ اس سفر یں عراق پہنچنے پر حضر ت لعل شہباز قلندر، حضرت عبدالقادر جیلانی کے مزار پر حاضر ہوئے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے بغداد سے حجاز تک راستے میں کئی مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔ آپ تین ماہ تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے حج کی ادائیگی کے بعدمدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مسجد نبویؐ میں جب روضہ اطہر کے قریب پہنچے تو دیر تک بارگاہِ رسالت میں سرجھکائے سلام پیش کرتے رہے۔ آپ گیارہ ماہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔غیبی اشارہ ملنے پر آپ سندھ کی طرف روانہ ہوگئے۔سفر کے دوران شہباز قلندر مکران کے ساحل پر پہنچے جب آپ وادی پنج گور میں داخل ہوئے تو ایک سرسبز میدان نے آپ کے قدم پکڑلیے۔ آپ نے یہاں چلہ کشی کی اور اس میدان کو یادگار بنا دیا۔ مقامی مکرانیوں نے اس ویرانے میں ایک فقیر کو چلہ کشی کرتے دیکھا تو دیدار کے لیے امڈ کر آگئے۔آپ کی عبادت و ریاضتسے متاثر ہو کر ہزاروں مکرانیوں اور بلوچوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ کے مرید ہوگئے۔یہاں ایک عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ اس دشت کو ‘‘دشت شہباز’’ بنا کر آگے بڑھ گئے۔آپ جب پسنی سے گزرے تو ایک گڈریا اپنی ریوں کا ریوڑ لے کر جا رہا تھا۔

آپ عالم جذب میں تھے۔ وہ گڈریا اپنی بکریوں کو بھول کر آپ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آپ نے چند دن کے ساتھ میں اسے اپنے رنگ میں ایسا رنگا کہ آپ کے جانے کے بعد وہ گڈریا ‘‘لعل’’ کے لقب سے مشہور ہوگیا۔ پسنی بندرگاہ کے ٹیلے کی دوسری جانب گڈریا لعل کا ایک مزار آج تک اسی گڈریے کی یاد دلاتا ہے۔ہاں سے آپ سندھ میں داخل ہوئے لیکن رکے بغیر سیدھے ملتان پہنچے اور شہر ملتان کے مضافات میں قیام فرمایا۔ آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملتان اور گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ یہ لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آپ کے پاس آتے۔ قلندر شہباز کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں کو شفا ملی، لاتعداد دکھیاروں کے دکھ دور ہوئے، ان خوش نصیب لوگوں کی زبانی قلندر شہباز کی کرامات کا شہرہ بھی دور دور تک ہونے لگا۔ملتان کے قاضی علامہ قطب الدین کاشانی کی سماعت بھی ان قصوں سے آثنا ہوئی۔ علامہ قطب الدین کاشانی ایک عالم فاضل شخص تھے لیکن صوفیت اور درویشی پر یقین نہیںرکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ جاری کردیا۔حضرت لعل شہباز قلندر کے کسی عقیدت مند نے قاضی کا یہ فتویٰ آپ تک بھی پہنچا دیا۔آپ چند خدمت گاروں کے ساتھ ملتان کی طرف روانہ ہوگئے۔حضرت بہاؤ الدین زکریا کی روحانی ولایت سے اس وقت ملتان جلوہ افروز ہو رہا تھا۔ ہر روز مجلس ارشاد کا انعقاد ہوتا تھا۔ ہزاروں طالبان حق

کسب فیض کے لیے حاضر ہوتے تھے۔آپ مسند ارشاد پر جلوہ افروز تھے کہ کسی نے اطلاع دی :‘‘حضرت عثمان مروندی قلندر نام کے کوئی بزرگ علامہ قطب الدین کاشانی سے مناظرے کے لیے تشریف لارہے ہیں۔ ’’آپ نے کہا ‘‘جاؤ اور قلندر کو نرمی سے سمجھا بجھا کر میرے پاس لے آؤ۔’’ حضرت لعل شہباز قلندر ابھی ملتان کے دروازے پر پہنچے تھے کہ بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مریدین آپ کے استقبال کے لیے پہنچ گئے۔اب آپ کے قدم قاضی کی عدالت کے بجائے حضرت بہاؤ الدین زکریا کی خانقاہ کی جانب تھے، حضرت بہاؤالدین زکریا سے پہلی ہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ حضرت لعل شہباز قلندر ایسی صحبتوں کے متلاشی تھے۔ خانقاہ میں بیٹھے تو اٹھنا بھول گئے۔دن رات صحبتیں رہنے لگیں۔ اسی خانقاہ میں آپ کی ملاقات حضرت فرید الدین گنج شکر اور حضرت سرخ بخاری سے ہوئی۔اس زمانے میں خطہ پنجاب اور سندھ میں قرامطہ فرقے کا بہت زیادہ اثرتھا۔ ان کے عقائد بنیادی اسلامی تعلیمات کے منافی تھے۔ خطہ پنجاب میں کئی علاقے ایسے تھے جہاں ابھی تک اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔ان حالات کے پیش نظر حضرت بہاؤ الدین زکریا نے رشد و ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کا ایک عملی منصوبہ تیار کیا۔ ایک طرف اپنے مریدوں کو مختلف تبلیغی دوروں پر روانہ کیا تو دوسری جانب حضرت لعل شہباز قلندر، حضرت فرید الدین گنج شکر اور سید جلال سرخ بخاری کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر روانہ ہوئے۔ یہ چارروں بزرک کافی عرصہ ایک ساتھ رہے۔بعد میں یہ چاروں بزرگ چار یا رکے

نام سے بھی مشہور ہوئے۔حضرت لعل شہباز قلندر کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جس کی وجہ سے لوگ آپ سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ آپ ان تبلیغی دوروں میں جہاں بھی گئے ،آپ سے بے پناہ کرامات بھی ظاہر ہوئیں، جن سے عوام الناس میں آپ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ان اولیاء اللہ کی تبلیغی کوششوں نے لوگوں کو بہت سکون اور اعتماد عطا کیا اور لوگ ثرت سے اسلام قبول کرتے چلے گئے۔ہندوستان کے مختلف شہروں کی حضرت لعل شہباز قلندر سیاحت کرتے ہوئے جونا گڑھ تشریف لائےان دنوں یہاں کے لوگ ایک عجیب مصیبت میں گرفتار تھے۔ دن کی ایک خاص گھڑی میں ایک زنبیل اور ڈنڈا نظر آتا تھا۔ اسے کون پکڑے ہوئے ہے، کچھ نظرنہ آتا تھا۔ بس ایک آواز آتی تھی :‘‘جسے جو کچھ دینا ہے، اس زنبیل میں ڈال دے۔’’لوگوں میں یہ بات بھی مشہور ہوگئی تھی کہ اگر کوئی اس زنبیل میں کچھ نہیں ڈالے گا تو نقصان اٹھائے گا۔ اس لیے لوگ خوف زدہ ہو کر کچھ نہ کچھ اس زنبیل میں ڈال دیاکرتے تھے۔ یہ زنبیل کہنے کو ایک چھوٹا سا کاسہ تھا لیکن اس میں بہت سارا سامان سما جاتا تھا۔ لوگ اس زنبیل سے متاثر تو تھے لیکن روز روز کی طلب سے تنگ آچکے تھے۔ انہوں نے بہت سے بزرگوں سے رابطہ کیا لیکن کوئی بھی اس زنبیل اور ڈنڈے کو نظر آنے سے نہ روک سکا۔یہ قصہ چل ہی رہا تھا کہ حضرت لعل شہباز قلندر شہر سے باہر آ کر مقیم ہوئے۔ آپ کی شہرت سن کر ایک درویش آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس درویش نے پورا واقعہ آپ کے گوش گزار کرتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کی۔وہ درویش آپ کو اس محلے میں لے گیا جہاں وہ زنبیل ظاہر ہوتی تھی۔ کھیل شروع ہوچکا تھا۔ زنبیل اور ڈنڈا ہر دروازے پر، ہوا میں اْڑتا ہوا پہنچ رہا تھااور لوگ اپنی نذریں اس میں ڈال رہے تھے۔ قلندر شہباز نے اپنا دست مبارک بڑھا یا۔ زنبیل اور ڈنڈا دونوں آپ کے ہاتھ میں آگئے۔ لوگ دم بخود کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔ حضرت شہباز قلندر نے ڈنڈا اپنے پاس رکھا اور زنبیل اس درویش کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا : ‘‘زنبیل تم رکھ لو۔ آج سے تم

زنبیل شاہ ہو۔ جو بھی تمہاری زنبیل سے کھائے گا، فیض یاب ہوگا۔ ’’ جوناگڑھ میں آج بھی زنبیل شاہ کا مزار موجودہے۔دوران سیاحت آپ گرنار اور گجرات بھی تشریف لے گئے اور لوگوں کو توحید اور حقانیت کا درس دیا۔ جس زمانے میں آپ گرنار میں مقیم تھے،آپ کے گرد حاجت مندوں کا ہجوم رہتا تھا۔ یہ زمانے بھر کے ستائےہوئے، بیمار اور مفلس انسان تھے جنہیں قلندر کے تسکین آمیز کلمات جینے کا حوصلہ دیتے تھے۔آپ دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتے، انہیں تسلی دیتے، غمخواری فرماتے۔ ایک روایت یہ ہے کہ اسی سیاحت کے دوران میں آپ نے حضرت بوعلی شاہ قلندر سے بھی ملاقات کی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بوعلی شاہ قلندر ہی نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سندھ میں سیوستان (سہون) میں سکونت اختیارفرمائیں۔ ملتان کے لوگوں کی خواہش تھی کہ آپ واپس جاکر ملتان میں ہی قیام کریں لیکن آپ نے سیہون جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور سندھ کا رْخ کیا۔حضرت لعل شہباز قلندر?649ہجری میں سندھ تشریف لائے۔سیہون میں اس وقت ہندو راجہ جیسر جی(جو عرف عام میں راجاچوپٹ کہلاتا تھا) کی حکومت تھی۔ راجہ چوپٹ ایک عیاش طبع آدمی تھا۔ راجہ رعایا کے حال سے بے خبر رہتا۔لاقانونیت اور ظلم و تشدد ہر طرف عام تھا کسی کی کوئی فریاد نہیں سنی جاتی تھی۔ اسی وقت کا یہ مقولہ بھی مشہور ہے‘‘اندھیر نگری چوپٹ راج’’۔ لوگوں کو بے بس اور لاچار دیکھ کر ایک مجذوب جس کا نام سکندر بودلہ تھا وہ اکثر ایک نعرہ مستانہ لگایا

کرتاتھا۔ ’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘۔سکندر بودلہ سیوستان کی پہاڑیوں میں عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ایک رات بزرگ نے خواب میں آوازِ غیبی سْنی کہ ‘‘ایک مرد قلندر آرہا ہے جو ظلمت کو نور میں تبدیل کردے گا’’ پھر اکثر اْن بزرگ کی زبان پر یہ ورد رہتا کہ ‘‘میرا مرشد سائیں آرہا ہے‘‘اس نعرے کو سن کر شہر کے لوگوں کے دلوں سے دعا اْٹھتی کہ خدا کرے ہمارا نجات دہندہ جلد آئے اور ہمیں راجہ کے ظلم سے بچائے۔مجذوب کی آواز میں ایسی کڑک تھیکہ راجہ کے قلعے کی دیوار کو چیرتی ہوئی اندر آجاتی تھی۔ رات کے اندھیرے اور سناٹے میں یہ پر سوز آواز اہل قلعہ کی نیندیں اڑادیتی تھی۔ شروع شروع میں تو راجہ اور قلعہ کے لوگوں نے نعروں کو سن کر نظرانداز کردیا تھا۔ جب نعروں میں شدت آگئی تو وہ بھی بوکھلا اٹھے۔ ان فلک شگاف نعروں نے نجانے کیوں راجہ جیسرکونہ صرف مشتعل کرتا بلکہ خوفزدہ کردیا تھا ، بالآخر راجا کے سپاہی گئے اور اس مجذوب کو گرفتار کرکے راجہ کے پاس لے آئے۔راجہ کے سامنے بھی سکندر بودلہ کی زبان پر یہی الفاظ تھے ’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘ تو راجہ غضبناک ہوگیا اور اْس نے سکندر بودلہ کو قید کروادیا، لیکن قید خانے میں بھی اس کے فلک شگاف نعرے بند نہ ہوئے۔راجہ رات بھر اذیت کی آگ میں جلتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے وزیروں کو طلب کیا۔ وزیروں نے کہا کہ اس شخص کی کھال ادھیڑی جائے آپ ہی دماغ ٹھکانے آجائے گا۔راجا نے اجازت دے دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں