گلاس میں پانی ۔۔۔

گھر میں تیسری مخلوق منفی اثرات سے اکثر لوگ دو چار ہوتے ہیں اور اس پریشانی میں باعث ہوتے ہیں. اکثر اس سے مراد غیر مرئی قوتوں کے اثرات لئے جاتے ہیں لیکن ویب سائٹ Bare Natural Health کی ایک رپورٹ میں اس مسئلے کا ایک اور زاویہ پیش کیا گیا ہے.

اس رپورٹ کے مطابق ہم انسانوں کے منفی رویوں کی وجہ سے بھی ہمارے گھروں میں منفی توانائی جمع ہوتی رہتی ہے جو ہمارے لئے ذہنی پریشانیوں اور نفسیاتی مسائل کا سبب بنتی ہے. یہ اثرات عام طور پر گھریلو جھگڑے، گالم گلوچ یا دوسروں کے لئے منفی خیالات کی وجہ سے ہمارے گھروں میں منفی توانائی کی صورت میں بسیرا کر لیتے ہیں. اسی رپورٹ میں ان منفی اثرات سے گھر کو پاک کرنے کے لئے ایک انتہائی دلچسپ اور سادہ طریقہ بھی بیان کیا گیاہے. اس کے لئے آپ کو ایک گلاس پانی، دو چمچ دانے دار نمک اور دو چمچ سرکے کی ضرورت ہوگی. ان تینوں چیزوں کو شیشے کے گلاس میں مکس کرکے گھر کے کسی ایک حصے میں رکھ دیں. آپ دیکھیں گے کہ نمک کی سطح آہستہ آہستہ بلند ہونا شروع ہوجائے گی، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ گھر میں موجود منفی اثرات کو جذب کررہا ہے. جب اس کی سطح مزید بلند ہونا رک جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس نے منفی توانائی جتنی ممکن تھی جذب کر لی. اب آپ گلاس کو خالی کرسکتے ہیں. اسی طرح اسے گھر کے دوسرے حصوں میں رکھ کر وہاں سے بھی منفی توانائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے. اسے بلکل آسان اور سادہ عمل کے بعد آپ گھر میں ایک نیا احساس پائیں گے اور جیسے کوئی بوجھ سا کم ہوگیا ہو، گویا اگر بری ہوئی تو جان چھوٹ جائے گی. بلکہ اپنی ننھی بیٹی کو بھی پلاتی ہیں.

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی تین سالہ بیٹی کو اس کی پیدائش کے دن سے ہی شراب نوشی کروا رہی ہیں.میلا کیونس نے ایک حالیہ انٹرویومیں بتایا کہ وہ اپنی بیٹی ایزابیلا کو شروع سے ہی چند قطرے شراب پلاتی رہی ہیں اور اب جبکہ وہ تین سال کی ہو چکی ہے تو تھوڑی سی زیادہ مقدار پینے لگی ہے. ان کا کہنا تھا کہ ”میں اپنی یہودی روایات کے مطابق ہر ہفتے کے دن بیٹی کو شراب پلاتی ہوں.ہم گھرپر ہی یوم السبت (یہودی مذہب کی ہفتہ وار چھٹی) مناتے ہیں. سبت کے روز شراب پی جاتی ہے اور ہم سب کے ساتھ میری بیٹی بھی شراب پیتی ہے. میں نے اس کی پیدائش کے دن سے ہی اسے چند قطرے پلانے شروع کردئیے تھے. وہ اسے بہت پسند کرتی ہے اور میں اس میں کچھ حرج محسوس نہیں کرتی. ہم دونوں میاں بیوی بچوں کی الگ انداز میں پرورش کے قائل ہیں.“ ٹیمپل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کنولا آئل کا استعمال یاداشت کی کمزوری اور سیکھنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے. تحقیق کے مطابق کنولا آئل دیگر ویجیٹیبل آئلز کے مقابلے سستا ہوتا ہے اور کمپنیاں اپنے اشتہارات میں اسے صحت بخش قرار دیتی ہیں، اس حوالے سے پہلے بہت کم طبی تحقیقی رپورٹس میں جائزہ لیا گیا خاص طور پر دماغ کے لیے. اس تحقیق کے دوران یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ یہ تیل دماغ کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں. اس مقصد کے لیے چوہوں پر تجربات کیے گئے اور دو گروپس میں تقسیم کرکے ایک گروپ کو روزانہ دو کھانے کے چمچ کنولا آئل کا استعمال کرایا گیا. ایک سال کے تجربے کے بعد جب دونوں گروپس کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کنولا آئل کا استعمال سے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہے جبکہ انہیں یاداشت کے مسائل سمیت سیکھنے کی صلاحیت سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑا. تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر اس تیل کا استعمال دماغی صحت کے لیے کسی طح بھی فائدہ مند نہیں اور اسے صحت بخش قرار دینا کسی طرح درست نہیں. یہ تحقیق اور اس کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں بھی شائع ہو چکے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں