قیامت کے دن وہ کون سے لوگ ہونگے جن کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا ؟

حضرت عبداللّٰه بن عُمر رضی اللّٰه عنہ سےروایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرتا پھرتا ھے اور مانگنا اس کی عادت بن جاتا ھے وہ شخص قیامت کے دن اس حال میں آے گا کہ اس شخص کے چہرے پر گوشت کا

ایک ٹکڑا بھی نہیں ہو گا ۔ دوسری جانب ذیل میں ان تینوں معاملات کے متعلق کتاب وسنت صحیحہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں سے مختصر طور پر بیان کیا جاتا ہے یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہیں جو کہ آخری زمانے میں قیامت قائم ہونے سے پہلے واقع ہوں گی- دجال : یہ انسان اور اللہ تعالی کی پیدا کردہ مخلوق ہے جو یہ آخری زمانے میں نکلے گا زمین میں فساد بپا کرے گا اور الوہیت کادعوی اور لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دے گا ان خارق عادت کاموں سے لوگوں کو فتنے میں ڈالے گا جو کہ اللہ تعالی نے اسے دیے ہوں گے مثلا بارش نازل کرنا بنجر زمین میں سبزہ اگانا اور زمین کے خزانے نکالنا وہ سرخ رنگ کا نوجوان اور چھوٹے قد کا ہو گا اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی اور اس پر غلیظ قسم کے گوشت کا ٹکڑا اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا عام طور پر اس کی پیروی کرنے والے یہودی ہوں گے اس کا انجام یعنی قتل عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں ہو گا جو کہ اسے فلسطین میں لدنامی شہر میں ایک نیزے سے قتل کریں گے ۔ یاجوج ماجوج : یہ دو کافر قبیلے ہیں جو کہ آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی ہیں زمین میں فساد مچاتے تھے تو اللہ تعالی نے ذوالقرنین سے کام لیا تو اس نے ایک بند بنایا جس میں انہیں بند کر دیا گیا ابھی تک وہ اس بند کو کھود رہے ہیں حتی کہ اللہ تعالی آخری زمانے میں عیسی علیہ السلام کے دجال کو قتل کرنے کے بعد انہیں نکلنے کی اجازت دے گا تو یہ بہت بڑی تعداد میں نکلیں گے اور حیرہ طبریہ کا سارا پانی پی جائیں اور زمین میں فساد مچائیں گے اور کوئی بھی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا تو عیسی علیہ السلام اور مومن سمٹ کر طور پہاڑ پر اکٹھے ہو جائیں گے حتی کہ اللہ تعالی یاجوج ماجوج کو ایک کیڑے سے ہلاک کرے گا جو کہ ان کی گردنوں کو کھائے گا پھر اللہ تعالی پرندوں کو بھیجے گا جو کہ ان کے جسموں کو سمندر میں پھینکیں گے پھر اللہ تعالی بارش نازل فرمائے گا جس سے زمین ان کے تعفن سے دھل جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں