کیا کورونا وائرس 5G ٹیکنالوجی کی وجہ سے پھیل رہا ہے؟

اس وقت سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کئی ایسی سازشی تھیوریز یعنی نظریات زیرگردش ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس موبائل فون کی فائیو جی(5G) ٹیکنالوجی کی وجہ سے پھیلا ہے تاہم سائنسدان نے ان نظریات کو جھوٹے اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

ان سازشی نظریات پر مشتمل ویڈیوز اور مضامین فیس بک ، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز رکھنے والے والے کئی تصدیق شدہ اکاؤنٹس کی جانب سے بھی شیئر کیے گئے ہیں۔

لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کووِڈ 19 یعنی کورونا وائرس اور 5G کو آپس میں جوڑنا ‘مکمل بکواس’ اور حیاتیاتی طور پر ناممکن ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں اور حقائق

زیرگردش سازشی نظریات میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ 5G ٹیکنالوجی موبائل نیٹ ورکس کا استعمال کرتی ہے جس کا انحصار ریڈیو کی لہروں پر ہوتا ہے جو کہ کورونا وائرس پھیلنے کا سبب ہیں۔

یہ نظریات نہ صرف غریب اور ترقی پذیر ممالک میں پھیل رہے ہیں بلکہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی یہ تصور قائم ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی ہی ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برمنگھم اور مرسیسائد میں انہی نظریات کے ماننے والے افراد نے 5G ٹیکنالوجی کے ٹاورز کو بھی آگ لگائی۔

یہ نظریات ابتدائی طور پر جنوری کے آخر میں فیس بک پر اس وقت پھیلنا شروع ہوئے جب امریکا میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تھا۔

ایک نظریے میں دعویٰ کیا گیا کہ 5G ٹیکنالوجی انسان کی قوت مدافعت کو کمزور کردیتی ہے اسی لیے انسان وائرس کے خلاف لڑ نہیں پا رہا جب کہ دوسرا نظریے کے مطابق وائرس 5G ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ہی پھیلتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سائمن کلارک کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتیں بالکل ‘بکواس ‘ ہیں۔

ڈاکٹر کلارک کے مطابق یہی نظریہ کہ 5G ٹیکنالوجی قوت مدافعت متاثر کرتی ہے درست نہیں ہے کیونکہ قوت مدافعت کو کوئی بھی چیز متاثر کر سکتی ہے مثلاً ایک دن بہت زیادہ تھکن یا اچھی خوراک نہ لینے کو ہم سنجیدہ نہیں لیتے مگر مگر وائرس لگنے کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔

ڈاکٹر کلارک کا کہنا ہے کہ یہ کہنا کہ بہت زیادہ مضبوط ریڈیو لہریں گرمی پیدا کرتی ہیں جو کہ نقصان دہ ہے مگر درحقیقت 5G کی ریڈیو لہریں اتنی مضبوط بھی نہیں کہ انسان کو گرمی پہنچائیں جس سے اس پر کوئی برا اثر پڑے۔

یونیورسٹی آف بریسٹل میں امراض اطفال کے پروفیسر ایڈم فن کے مطابق یہ کہنا کہ 5G ٹیکنالوجی وائرس کو پھیلا سکتی ہے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتی ہے بالکل ناممکن ہے۔”موجودہ وبا کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک متاثرہ شخص سے ہی دوسرے شخص تک پھیلتی ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔۔۔یہاں تک متاثر شخص سے لیا گیا وائرس ہمارے پاس لیب میں بھی موجود ہے۔۔۔وائرس اور موبائل فون یا انٹرنیٹ کنکشن قائم کرنے والی برقی مقناطیسی لہریں بالکل ایسے ہی مختلف چیزیں ہیں جیسے چاک اور پنیر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔”

ماہرین کے مطابق یہ سازشی نظریات اس لیے بھی قابل قبول نہیں کیونکہ یہ وائرس ان ممالک میں بھی پھیل رہا ہے جہاں 5G ٹیکنالوجی ابھی دستیاب ہی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں