5 جولائی 1977 کیوں ہوا؟

5جولائی 1977کےفوجی اقدام سے متعلق کئی بار سوچا کہ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اس پر اپنی رائے دوں ، مگر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ اسے تعصب کی نگاہ سے دیکھا جائیگا۔

5جولائی 1977کے اقدام کی ایک ہلکی سی جھلک ہمیں تاریخ میں بھی ملتی ہے کہ اس وقت بھٹو صاحب کی حکومت اور اپوزیشن اتحاد ایک دوسرے کو دیکھنے اور برداشت کرنے کے روادار نہیں تھے۔

بھٹو صاحب نے اپوزیشن اتحاد سے نمٹنے کیلئے غیر قانونی حربے استعمال کرتے ہوئے اپنی نگرانی میں حلقہ بندیاں،سرکاری گاڑیوں کا استعمال،کارکنوں میں اسلحہ کی تقسیم،سرکاری ملازموں پر دباؤ ڈالنےکیلئے 158سرکاری ملازموں کی غیر قانونی برطرفی،اپنے مخالف سیاسی امیدوار(جان محمد عباسی)کو اغوا کروا کےبلا مقابلہ منتخب ہونے سےدھاندلی کی بنیاد رکھ دی تھی۔

1977ء کے انتخابات سے پہلے ملک میں اپوزیشن انتشار کا شکا ر تھی ۔اپوزیشن کے اس باہمی اختلاف کا فائدہ اُٹھانے کیلئے اُنہوں نے قبل از وقت الیکشن کروانے کا اعلان کر دیا تاکہ اپوزیشن سنبھل نہ سکے اور پیپلز پارٹی کا مقابلہ نہ کر سکے لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں اور مہنگائی سےعوام پیپلز پارٹی سے سخت متنفر ہو چکے تھے۔

اس صورتحال کا اپوزیشن نے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور اپوزیشن کی 9 جماعتیں مولانا مفتی محمود کی قیادت میں متحد ہو کر انتخابی میدان میں اتریں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ قومی اتحاد پیپلز پارٹی کو شکست دے دےگا،لیکن جب الیکشن کا نتیجہ سامنے آیا تو دنیا حیران رہ گئی۔ پیپلز پارٹی نےحیران کُن طور پر 155 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اپوزیشن صرف 36 نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکی۔

اپوزیشن نے الیکشن کو دھاندلی زدہ قراد دےکر از سر نو الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ بھٹو صاحب نے پاکستان قومی اتحاد کو 12مارچ 1977 کو مذاکرات کی پیش کش کی جو اپوزیشن نے مسترد کر دی۔

پاکستان قومی اتحاد کی تحریک زور پکڑ چکی تھی۔ اپوزیشن از سر نو انتخابات سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھی۔10اپریل کو بھٹو صاحب نے جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کی اور کہاکہ ’’ان کی حکومت انصاف کے تقاضے پورے کرے گی اور انتخابی مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوں گے۔ تاہم فوج کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات کے مقابلے کے لئے خود کو تیار رکھے ‘‘۔

اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے اپنے رفقائے کا ر کو اعتماد میں لیا تا ہم وہ اس نکتہ پر اتفاق کر چکے تھے کہ حکومت کا اعتماد داغ دار ہو چکا ہے اور اسے عوام کی حمایت اور تائید حاصل نہیں رہی۔ فیصلہ ہوا کہ وزیر اعظم کو بتا دیا جائے کہ عوام میں ان کی حکومت کے بارے میں بہت غصہ ہے ۔ وزیراعظم کی جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ملاقات 10 اپریل کو ہوئی ، تاہم وزیر اعظم کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ ان کےپاس نئے انتخابات کروانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔

17 اپریل کو بھٹو نے پریس کانفرنس کی اور اتوار کی بجائے جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی کے علاوہ 6 ماہ کے اندر اندر شریعت نافذ کرنے سمیت دیگر اقدامات کا اعلان کیا۔لیکن اس کے باوجود تحریک ماند نہ پڑی اپوزیشن نےنظام ِمصطفیٰ کے ممکن نفاذ کا مطالبہ کر دیا ۔

جنرل ضیاء الحق کے بہت سے رفقاء اس بات سے اتفاق کرتے ہیں بلکہ جنرل محمد شریف کی گواہی ہے کہ بھٹو صاحب نے ان اقدامات کا اعلان جنرل ضیاء الحق کے مشورے پر کیا تا کہ تحریک کا زور ٹوٹ سکے۔ جنرل ضیاء الحق کا حکومت کیلئے یہ مشورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک میں حکومت کیساتھ تھے اور چاہتے تھے کہ حالات درست ہوجائیں۔تاہم انتخابی دھاندلی کیخلاف تحریک دراصل اب بھٹو مخالف تحریک بن چکی تھی۔

20 اپریل کو حکومت نے خود ایک فیصلہ کیا کہ ملک کے اہم شہروں میں مارشل لا نافذ کر دیا جائے۔ حکومت سے کہا گیا کہ ایسانہ کیا جائے کیونکہ یہ پھر آگے ہی بڑھے گا واپس نہیں آئیگابہر حال حکومت نے لاہور ،کراچی اور حیدر آباد میں مارشل لا نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اورر چیئرمین JCSCجنرل محمد شریف کو اس کی ہدایت کر دی گئی وزیر اعظم نے ا ٹارنی جنرل کو فرمان ڈرافٹ کرنے کی ہدایت کی تا کہ صدر فضل الٰہی چوہدری سے اس پر دستخط کروا لئے جائیں اس کے باوجود وزیر اعظم بھٹو سے کہا گیا کہ وہ ایسا نہ کریں اس سے حالات مزید خراب ہو جائینگےتو وزیر اعظم بھٹو نے جواب دیا تو کیا پھر پورے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا جائے۔

جب مارشل لانافذ ہوا تو تین بریگیڈیئر اشتیاق احمد خان،نیاز احمد اور محمد اشرف نےاستعفیٰ دیدیا۔ بھٹو صاحب کی غیر سنجید گی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک جل رہا تھا وہ مذاکرات چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔

بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اپوزیشن کو مذاکرات میں الجھائے رکھو ایک دن آئے گا کہ اپوزیشن تھک جائے گی اور تحریک دم توڑ دے گی لیکن وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ تحریک اپوزیشن کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں جا چکی تھی۔

ملک کی اکثر مساجد سے روزانہ لوگ خود گرفتاریاں پیش کر رہےتھے ۔ ایسے میں پیپلزپارٹی نے عجیب حرکت کی کہ احتجاجی عوام سے نمٹنے کیلئے اپنے کارکنان میں اسلحہ تقسیم کیا اور عوام کو آپس میں لڑانے کی گھناؤنی سازش کی۔

ان حالات سے نمٹنے کیلئے جنرل ضیا ء الحق نے اپنے رفقائے کار سے مشاورت کی اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا جائے اور 5جولائی 1977 ءکو اس پر عمل ہو گیا ۔بھٹو حکومت ختم کر دی گئی اور ملک میں از سر نو انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔

اس مارشل لا کو تمام مکتب ہائےفکر نے خوش آمدید کہا ۔ ملک میں الیکشن کی تیاریاں شروع ہو گئیں نہ جانے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کیا ہوا کہ اُنہوں نے اچانک نعرہ لگایا ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ اور الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ آج بھی ماضی جیسے حالات ہیں حکومت اور اپوزیشن با ہم مل بیٹھ کر پارلیمانی آداب کے اندر رہ کر کام کرنے سے عاری دکھائی دے رہی ہیں ۔

(صاحبِ تحریر پاکستان مسلم لیگ ضیاء الحق (شہید) کےصدر ہیں)