مبینہ زیادتی کا شکار بچی کی والدہ سے رشوت کا انکشاف، وزیراعظم کا نوٹس

اسلام آباد: وزیراعظم نے سیٹیزن پورٹل پر شکایت کی شنوائی نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نوٹس معذور بچی کی والدہ کی شکایت پر لیا، معذور بچی کو اوکاڑہ میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، افسوسناک واقعے کا مقدمہ تو درج کرلیا گیا مگر تفتیشی افسر کی جانب سے رشوت لئے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

متاثرہ خاتون نے سیٹیزن پورٹل پر شکایت کی، جس پر وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے معاملےکی فوری تحقیقات کا حکم دیا، وزیراعظم کی ہدایت پر ڈلیوری یونٹ نے ڈی پی او اوکاڑہ کو کارروائی کی ہدایت دی، جس پر ڈی پی او اوکاڑہ نے متعلقہ تفتیشی افسر کو معطل کردیا ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ معاملےکی شفاف تحقیقات کی جائیں، ملزمان کو گرفتار اور فوری قانونی کارروائی کی جائے اور وزیراعظم آفس کو تحقیقات سےآگاہ رکھا جائے۔

جسمانی طور پر معذور بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ گذشتہ ماہ تھانہ بی ڈویژن کی حدود میں پیش آیا تھا، واقعے کے مرکزی ملزم کامران کو گرفتار کر کے جیل بھجوایا جا چکا ہے۔

ڈی پی او نے مدعی مقدمہ کی شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی سب انسپکٹر عمرکو معطل کیا ڈی پی او فیصل شہزاد نے متاثرہ فیملی سے خود ملاقات بھی کی اور کہا کہ ان کو ہر صورت انصاف فراہم کروایا جائے گا، بدعنوان ملازمین کی محکمہ میں ہرگز گنجائش نہیں ہے۔

ڈی پی او نے ڈی ایس پی لیگل کلیم اللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے حکم دیا کہ تفتیشی امور کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد چالان مرتب کیا جائے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان سیٹیزن پورٹل پر درج کرائی شکایات کی گاہے با گاہے تفصیلات حاصل کرتے رہتے ہیں اور شنوائی نہ ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔

دو ماہ قبل بھی سٹیزن پورٹل پر دو بیوہ خواتین کی شکایت کی داد رسی نہ ہونے پر وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو راولپنڈی کےخلاف انکوائری کاحکم دیا تھا۔

بیوہ بہنوں نے وزیراعظم کو پورٹل پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی شکایت کی تھی ، جس میں کہا تھا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے بنا مؤقف جانے ہماری شکایت کو خارج کیا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے سائلین پر شکایت واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالنے کا بھی الزام ہے۔

اس سے قبل اپریل میں مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایک لاکھ 55ہزار شکایات کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا، یہ شکایات جولائی تا دسمبر دو ہزار بیس میں دائر کی گئیں تھیں۔