پاکستانی عدالتیں نااہل، حکومت کے دباؤ میں ہیں: امریکا

امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی عدلیہ کے متعلق شدید منفی انداز سے منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظریاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو ملک کا عدالتی نظام آزادانہ کام کرتا ہے لیکن حقیقت یکسر مختلف ہے۔

2021 Investment Climate Statements: Pakistan نامی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے زیر اثر ہے، ماتحت عدلیہ پر ایگزیکٹو برانچ کا اثر اور اس میں اہلیت اور شفافیت کا فقدان ہے، ماتحت عدالتوں میں کئی غیر حل شدہ مقدمات کا ہجوم موجود ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کی عدالتوں کی اہلیت، شفافیت اور قابل بھروسہ ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نظریاتی لحاظ سے عدالتیں آزاد ہیں لیکن حقیقت مختلف ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا عدالتوں پر نمایاں اثر ہے، نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کی شفافیت، اہلیت اور قابلیت پر بھروسہ کرنا شکوک و شبہات سے پُر ہے تاہم، توہین عدالت کی کارروائی کے ڈر کی وجہ سے کاروبار اور عمومی طور پر عوام عدالتی نظام کی کمزوری پر انگلی نہیں اٹھا پاتے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کنٹریکٹ ایکٹ 1872 وہ مرکزی قانون ہے جو پاکستان میں معاہدوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، ایسے حالات میں، کچھ برطانوی قانونی فیصلے ایسے بھی ہیں جن کا عدالتی کارروائیوں میں حوالہ دیا جاتا ہے۔

پاکستان کا ضابطہ قانون اور اقتصادی پالیسی غیر ملکی سرمایہ کاری کے خلاف امتیازی رویہ نہیں رکھتا لیکن نا اہل اور کمزور عدلیہ کی وجہ سے معاہدوں (کنٹریکٹ) کا نفاذ مسائل پیدا کر دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2020 کی کرپشن کے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 124 ویں نمبر پر ہے اور چونکہ سزاؤں پر عملدرآمد اور احتساب کا فقدان ہے لہٰذا کرپشن کے مسائل بدستور موجود ہیں اور ساتھ ہی میرٹ کی بنیاد پر ترقیاں بھی نہیں دی جاتیں جبکہ تنخواہیں نسبتاً کم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ضابطہ قانون کے تحت رشوت ایک جرم ہے جس کی سزا مقرر ہے لیکن اس کے باوجود حکومت میں ہر سطح پر رشوت کا چلن موجود ہے۔ اگرچہ اعلیٰ عدالتوں کو اچھی ساکھ کا حامل سمجھا جاتا ہے لیکن نچلی عدالتیں کرپٹ، نا اہل اور امیر، مذہبی، سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ کی شخصیات کے دباؤ میں آجاتی ہیں، عدالتی تقرریوں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے عدالتی نظام پر حکومت کا اثر رسوخ بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نیب کی فنڈنگ بھی کم ہے اور ادارے میں پیشہ ورانہ قابلیت بھی نہیں اور پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں ادارے کو سیاسی لحاظ سے متعصب سمجھتی ہیں۔ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے کاروباری شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی عدالتیں حکومت کیخلاف غیر ملکی ثالثی فیصلوں کو مانتی ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کراتی ہیں، کسی بھی مقامی ادارے کیخلاف جاری ہونے والے عالمی فیصلے کیخلاف بھی مقامی عدالتوں سے پہلے اجازت لینا پڑتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کیخلاف ماورائے عدالت کارروائی کی کوئی مثال موجود نہیں، مسائل اور تنازعات طے کرنے کیلئے پاکستان میں متبادل نظام (آلٹرنیٹیو ڈسپیوٹ ریزولیوشن میکنزم) موجود ہے جس کے ذریعے دو فریقین کے درمیان مسائل حل کیے جاتے ہیں، پاکستان کے آربیٹریشن ایکٹ (ثالثی کا قانون) تجارتی تنازعات میں ثالثی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے لیکن عموماً کیسز حل ہونے میں برسوں کا وقت لگ جاتا ہے، ایسے خطرات کو دور کرنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کار کنٹریکٹ کی شقوں کا سہارا لیتے ہیں جس میں بین الاقوامی ثالثی کا ذکر موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں خصوصی ٹریبونلز کا بھی ذکر موجود ہے جس کا مطلب آلٹرنیٹیو ڈسپیوٹ ریزولیوشن ہے، اسپیشل ٹریبونلز ٹیکس، بینکنگ، لیبر اور آئی پی آر کے تنازعات طے کرنے میں معاونت کرتے ہیں تاہم، غیر ملکی سرمایہ کار اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ شفاف، واضح اور بروقت انداز سے سرمایہ کاری کے تنازعات حل نہیں کیے جاتے۔

دوسری جانب پاکستانی حکام نے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں عدلیہ مکمل آزاد شفاف ہے، فیصلے بروقت کیے جاتے ہیں، پاکستان کے عدالتی نظام کی اہلیت اور قابلیت قابل بھروسہ ہے۔