افغان مہاجرین کو اب اپنے وطن واپس جانا چاہیے

اسلام آباد (ہاٹ لائن)دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح کم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں نہ ہمارے وہاں کوئی فیورٹس ہیں،دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ چین کا خطے میں اہم کردار ہے چین اور پاکستان چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن اور استحکام آئے، دونوں ممالک نے انٹراافغان مذاکرات کے لیے ہمیشہ کوشش کی ہے، پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ تمام توانائیاں افغان مسئلہ کے سیاسی حل پر لگائی جائیں، وہاں جامع وسیع البنیاد سیاسی حل بہت ضروری ہے، جبکہ بھارت نے ہمیشہ اسپائلر کا کردار ادا کیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی صاحبزادی کے معاملے میں مکمل تفتیش کا سلسلہ فوری شروع کیا گیا، تحقیقات کے لیے سیکیورٹی کے 200 اہلکار استعمال کیے گئے، ان تحقیقات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے افغان سفیر اور ان کے خاندان کو تعاون کرنا چاہیے۔ایک سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے بعض عناصر جن کی کوئی حثیت نہیں، ہم ان کے منفی بیانات سنجیدہ نہیں لیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تین ملین کے قریب افغان پناہ گزین ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال مزید خراب نہ ہو کیونکہ ہم مزید افغان مہاجرین کی آمد کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ترجمان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں افغان مہاجرین کو اب واپس جانا چاہیے، مہاجرین پر پاک افغان ورکنگ گروپ بھی موجود ہے، افغانستان میں ہمارے کوئی فیورٹس نہیں ہیں بس ہم افغانستان میں تشدد کا خاتمہ اور امن چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاک افغان سرحدیں محفوظ سرحد کہلائیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ہیکنگ انکشافات کے بعد پاکستان میں کمیونی کیشن سیکیورٹی کو یقینی بنایا جارہا ہے، پاکستان نے افغانستان سے سفیر کو واپس نہیں بلایا اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نے سعودیہ اور بحرین کے سرمایہ کاروں کو اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام پہلے ہی فوجی محاصرہ میں ہیں، وہاں حالیہ سیلاب سے صورتحال اور خراب ہوگئی، پاک چین جے سی سی کے ملتوی ہونے کا داسو واقعہ سے تعلق نہیں۔