پاکستان میڈیا ڈوپلیمنٹ اتھارٹی پروپیگنڈہ بے بنیاد

لاہور(ہاٹ لائن نیوز ) گزشتہ روز پاکستان جرنلسٹس فاونڈیشن کے زیراہتمام پاکستان میڈیاڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے موضوع پر منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فوادچودھری کاکہناتھاکہ میڈیاکوریگولیٹ کرنے کےلیے ملک میں سات قوانین موجودہیں، موجودہ حکومت ان تمام قوانین کو ایک اتھارٹی کے زیراثرلانے کے لیے بل لارہی ہے تاکہ میڈیاکوون ونڈوآپریشن کے تحت چلایاجاسکے۔ انہوں نےکہاکہ پریس کونسل کاسالانہ بجٹ پانچ کروڑروپے ہے،مقام افسوس کہ پریس کونسل سال میں دوکیسزکے فیصلے بھی مکمل طورپرنہیں کرسکی۔

حکومت پی ایم ڈی اے کے ذریعے ورکنگ جرنلسٹس کےحقوق کاتحفظ چاہتی ہے جس کے خلاف بعض میڈیاہاوسز منفی پراپیگینڈاکررہے ہیں،انہوں نےکہاکہ اطلاعات کے مطابق کئی میڈیاہاوسزورکنگ جرنلسٹس کو بروقت تنخواہیں ادانہیں کررہے اورنہ ہی ان کی ملازمتوں کوتحفظ حاصل ہے۔وفاقی وزیرکاکہناتھاکہ پی ایم ڈی اےکے قیام سے فیک نیوزدینے والے کوذاتی حیثت میں دس کروڑروپے جبکہ متعلقہ ادارے پربیس کروڑروپے تک جرمانہ عائدہوسکےگا۔ انہوں نےکہاکہ فیک نیوزکی روک تھام اورجرمانوں کے لیے میڈیا کمیشن بنایاجائے گا جس میں چارممبرصحافی کمیونٹی جبکہ چارممبرحکومت کی نمائندگی کرینگے۔

اس موقع پراپنے خطاب میں چیئرمین پاکستان جرنلسٹس فاونڈیشن ذوالفقاراحمدراحت کاکہناتھاکہ صحافت ریاست کاچوتھا ستون ہے.تمام ذمہ دارصحافی اپنے پیشے کے تقدس کی خاطر حکومت سے مکالمے کے حق میں ہیں۔انہوں نےکہاکہ کسی کو بھی ملکی مفادات کے خلاف میڈیاکواستعمال کرنےکی اجازت نہیں دی جاسکتی،مادرپدرآزادی کے بجائے میڈیاکواپنے اوپرخودسنسرشپ عائدکرناہوگی۔خصوصی نشست میں ممتازکالم نگاروں،اینکرز حضرات اورسول سوسائٹی سمیت مخلتف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے پی ایم ڈی اے بل بارے کھل کراپنی رائے کا اظہار کیا اورمثبت تجاویزپیش کیں۔

پی جے ایف کے تحت ہونے والے مکالمے میں وجاہت مسعود،احمداقبال بلوچ،عقیل ترین، افضل ملک،شکیل انجم،اسلم خان، نعیم ثاقب، آفتاب مشوانی ، ڈاکٹرجبارخٹک،قاضی سعید،ریحان اظہر،سلمان عابد،عبداللہ ملک ایڈووکیٹ،ملک محمدارشدعاصم، خالدقیوم سمیت دیگرشریک ہوئے۔