اسلام آباد دھرنا، پی ٹی آئی کی جیت

اسلام آباد(ہاٹ لائن) ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو مختص جگہ پر دھرنے کی اجازت دے دی۔ حکومت کو شہریوں کا بنیادی تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے دھرنے سے متعلق تمام درخواستیں نمٹادی گئیں ۔
دھرنے کے باعث اسلام آباد کو بند کرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نےتمام درخواستیں نمٹاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مختص جگہ پردھرنے اور احتجاج کی اجازت دے دی۔ درخواستوں کی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔
دوران سماعت جسٹس شوکت عزیزنے ریمارکس دیے کہ عدالت کو ڈی چوک نہ بنائیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان ڈیموکریسی پارک میں دھرنے کیلئے تیار ہیں ؟ جس پر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جواب دیا کہ ہم ڈیموکریسی پارک سے احتجاج شروع کریں گے۔
جسٹس شوکت عزیز نے ہدایت کی کہ آپ ڈیموکریسی پارک میں جمع ہوں اور وہاں سے ہی منتشر ہو جائیں۔ اگر لوگ زیادہ ہوں تو پھر ایکسپریس وے کی جانب جائیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی یقین دہانی کے بعد دھرنے کی اجازت دی گئی۔عدالت نےیہ ہدایت بھی کی کہ حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
دوران سماعت جسٹس شوکت عزیزنے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کیوں کہا جج سے بات ہوگئی پیش نہیں ہوں گا، یہ کیا طریقہ ہے کہ کہا جائے اوئے جسٹس صدیقی! تمہارے آرڈر کا کیا بنا، کیا خان صاحب کے علاوہ ملک میں کسی کی عزت نہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے مزید کہاکہ پاکستان سے وفاداری اور آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ کسی ذات کے لیے پسند نا پسند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے نفرت ہے اور نہ ہی محبت۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بنی گالا کے باہرکارکنوں سے خطاب میں عمران خان کا جسٹس شوکت عزیزصدیقی کو مخاطب کر کے کہنا تھا کہ آپ نے ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دی تھی، اور کہا گیا تھا کہ کوئی کنٹینرنہیں لگیں گے اورکسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوگی تو پھر آپ کے فیصلے کا کیا بنا؟ کیا اس ملک میں عدلیہ صرف طاقتور کے ساتھ ہے۔ پیر کو ٹیسٹ کریں گے عدالیہ کمزور کے ساتھ کب ہو گئی۔