کراچی، ٹرینوں میں خوفناک تصادم،جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی

کراچی (ہاٹ لائن ) کراچی میں مسافر ٹرینوں کے خوفناک تصادم کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی،حادثے میں 65 سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں۔ حادثہ لاہور سے آنے والی زکریا ایکسپریس کے ڈرائیور کی غلطی سے ہوا، ریڈ سگنل کے باوجود ریل کی رفتار کم نہ کی اور لانڈھی اسٹیشن پر کھڑی فرید ایکسپریس کی آخری تین بوگیوں کے پرخچے اُڑ ادیئے۔ پاکستان میں فرسودہ ریلوے نظام کے دامن پر انسانی لہو کے نہ مٹنے والے کچھ اور داغ، نشانہ بنی فرید ایکسپریس جو کراچی کے علاقے لانڈھی کے جمعہ گوٹھ اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ عقب سے زکریا ایکسپریس موت کی رفتار سے آئی اور یوں ٹکرائی کہ فرید ایکسپریس کی پچھلی 3 بوگیوں کے پرخچے اُڑے اور کئی بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں،تصادم کا دھماکا اتنا زور دار تھا، کہ دُور دُور تک سُنا گیا۔ ایک تو صبح کے وقت سڑکوں پر ٹریفک کا رش زیادہ تھا، اوپر سے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا مؤثر بندوبست نہ تھا،یوں امدادی ٹیموں کو جائے حادثہ پر پہنچنے میں ڈھائی سے تین گھنٹے لگے،لاشوں اور زخمیوں کو پچکی ہوئی بوگیاں کاٹ کر نکالا اور جناح اسپتال پہنچایا گیا۔
nni03-76
ابتدائی تحقیقات کے بعد وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق اور ریلوے حکام کی جانب سے جو اطلاعات دی گئیں، اُن کے مطابق حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیور کی غفلت کا نتیجہ ہے جسے پہلے یلو سگنل دیا گیا، مطلب تھا، رفتار کم کرو، مگر رفتار کم نہ ہوئی، پھر اُسے ریڈ سگنل دیا گیا، مطلب تھا، بریک جام، ٹرین کو مکمل طور پر روک دو، کیونکہ آگے خطرہ ہے، مگر ڈرائیور اُسی رفتار سے آگے بڑھتا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈرائیور سو رہا تھا، یا نشے میں تھا؟سوال یہ بھی ہے کہ ریلوے کسی متوقع حادثے کی صورت میں ڈرائیور سے ایمرجنسی رابطے کا نظام کب بنائے گی؟اور سوال یہ بھی ہے کہ مسافر ٹرینوں پر ہر لمحہ نظر رکھنے کیلئے ویڈیو مانیٹرنگ کا بندوبست کب اور کتنے حادثوں کے بعد کیا جائے گا؟
nni03-78
ادھر اسٹیشن پر خوشی خوشی استقبال کی تیاریاں آنسووں میں ڈوب گئیں،جنہیں ہنستے بستے گھر وں میں آنا تھا، وہ ویران قبرستانوں میں جاپہنچے، کراچی کے ٹرین حادثے نے کئی خاندانوں میں صفِ ماتم بچھادی۔ وہ لوگ جو بس گھر آیا ہی چاہتے تھے کہ اچانک وہاں جاپہنچے، جہاں سے انہیں کوئی صدا واپس لاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی فریاد، مرنے والوں میں کراچی کی رشیدہ بی بی، ان کا بیٹا مدثر جبکہ وہاڑی سے تعلق رکھنے میاں بیوی اور ان کی دو جڑواں بچیاں بھی شامل ہیں۔ ان میں معجزانہ طور پر بچ جانے والی ننھی فریحہ بھی ہے، جس وقت حادثہ ہوا، یہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی، ماں نے جانے کیا کیا ہوگا کہ بچی تو بالکل محفوظ رہی مگر وہ خود زخموں سے چور چور ہو کر جان کی بازی ہار گئی، تاہم فریحہ اس المیے سے بے خبر ہے اور کہتی ہے کہ ماما کو چوٹ لگی ہے، اسپتال سے پٹی کراکے کچھ دیر بعد اس کے پاس آنے والی ہیں۔ مسئلہ صرف فریحہ کا نہیں، اس حادثے نے کتنی خاندانوں کو برباد کردیا ہے، ان بدنصیبوں میں کراچی کے علاقے محمود آبادہی کا ایک اور خاندان بھی شامل ہے جس کے دو فرد اس سانحے کی نذر ہوئے۔ واقعے کے بعد بلاول بھٹو زداری، وفاقی وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے بھی جناح اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔