قندوز میں آپریشن، نیٹو بمباری سے 30 عام شہری ہلاک

(ہاٹ لائن) افغان حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں نیٹو کی مدد سے افغان سپیشل فورسز کے ایک آپریشن میں 30 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ آپریشن قندوز میں کیا جا رہا تھا اور زیادہ تر ہلاکتیں نیٹو کی بمباری سے ہوئی ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نیٹو سے فضائی مدد اس وقت مانگی جب جب افغان سپیشل فورسز کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرائیں گے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دو امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
نیٹو مشن کے ترجمان کا کہنا ہے ‘امریکی فورسز نے قندوز میں افغان فورسز کی مدد کے لیے کارروائی کی۔ شہریوں کی ہلاکت کے دعوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
قندوز گورنر کے ترجمان محمود دانش نے کہ یہ آپریشن قندوز شہر سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک علاقے میں کیا۔علاقے کے شہریوں نے عام شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا اور چند لاشوں کو گورنر کے دفتر کے سامنے رکھ دیا۔ اس احتجاج کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک کمسن بچی بھی تھی۔
ایک 55 سالہ مزدور تازہ گل نے کہا ‘مجھے بے حد افسوس ہے۔ میرے خاندان کے سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیوں ان معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ کیا یہ طالبان تھے؟ نہیں یہ تو معصوم بچے تھے۔’