الیکشن کمیشن نےارکان اسمبلی کے اثاثوں کےخصوصی آڈٹ کا فیصلہ کر لیا.

اسلام آباد(ہاٹ لائن)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے سالانہ گوشواروں، اثاثوں کی تفصیلات اور واجبات کی خصوصی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے، طریقہ کار وضح کرنے کے لئے ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ انگریزی اخبار”ڈان“ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان ارکان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کی جانچ پڑتال کرے گا ،غلط بیانی کے مرتکب ارکان کے خلاف ری پریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ(روپا) کے سیکشن بیاسی کے تحت کارروائی ہوگی۔

مزید پڑھیں :نااہلی ریفرنس : الیکشن کمیشن نے عمران خان اور جہانگیر ترین کو جواب کیلئے 2نومبر کو طلب کر لیا

الیکشن کمیشن کی جانب سے ارکان اسمبلی کے اثاثوں کے آڈٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنے پولیٹیکل فنانس ونگ کو دوبارہ فعال کرنے کے چند دنوں بعد سامنے آیا جب ای سی پی نی اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے 337 ارکان اسمبلی کو معطل کردیا تھا۔ً ایک دہائی سے زائد عرصے سے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرانا محض رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے کیوں کہ ای سی پی تفصیلات وصول کرتا ہے اور بغیر تصدیق اور جانچ پڑتال کیے اسے سرکاری گزٹ میں شائع کردیتا ہے۔

مزید پڑھیں :سپریم کورٹ کی کارروائی اوراحتجاج ساتھ چلیں گے ،کوئی ٹکراؤنہیں ہوگا،2نومبرکوعمران خان الیکشن کمیشن کی سماعت پرنہیں جاسکیں گے :اسدعمر

ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ بیشتر ارکان اسمبلی اپنے اثاثوں کو حقیقت سے کہیں زیادہ کم ظاہر کرتے ہیں اور کئی سیاستدان ایسے بھی ہیں جنہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ذاتی گاڑی بھی نہیں تاہم انہیں قافلوں کی شکل میں سفر کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز، وزیر اعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان، جہانگیر ترین اور دیگر رہنماو¿ں کے خلاف اثاثے چھپانے کے الزامات کی درخواستیں بھی دائر ہیں جن میں ان رہنماو¿ں کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔