ریحام خان نے حمید گل سے کیا باتیں کیں؟ بیٹے عبداللہ گل کے ایسے انکشافات…. کہ ہر پاکستانی حیران رہ جائے

اسلام آباد (ہاٹ لائن ) معروف صحافی ضیاءشاہد نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ ریحام خان عمران خان سے شادی سے قبل آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل سے ملنے ان کی رہائش گاہ گئیں تھی تو اس وقت جنرل حمید گل نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ آپ کمرے سے باہر چلے جائیں میں ریحام سے کچھ ضروری باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ جب حمید گل کے سب گھر والے کمرے سے باہر چلے گئے تو حمید گل نے کہا کہ عمران خان سے شادی نہ کریں۔ معروف صحافی نے اپنے کالم میں مزید انکشاف کیا کہ حمید گل کے بیٹے عبداللہ نے باپ کی وفات کے بعد لاہور آ کر میرے دفتر میں مجھے تفصیل بیان کی کہ ریحام خان شادی سے پہلے میرے والد حمید گل سے ملنے ہمارے گھر آئی تھیں ۔ میرے والد نے مجھ سمیت لوگوں کو کمرے سے نکال کر علیحدگی میں ریحام سے بات کی تھی۔ ملاقات ختم ہوئی اور ریحام جانے لگیں تو وہ بہت پریشان تھیں اور میرے پوچھنے پر میرے والد نے بتایا تھا کہ میں نے ریحام سے کہا ”میں آپ کو نہیں جانتا لیکن کیا آپ فلانفلاں شخص کو جانتی ہو اور کیا فلاں ادارے سے آپ کا تعلق نہیں رہا اور کیا آپ کو پاکستان بھجوانے اور عمران سے ملانے میں فلاں فلاں اشخاص سرگرم نہیں رہے۔ عبداللہ گل کے بقول ریحام خان اس پر اپپ سیٹ ہو گئیں اور جلد ہی وہ اٹھ کر چلی گئیں۔ عبداللہ گل کو یقین تھا کہ ریحام خان کو پتہ چل گیا ہے کہ میرے والد ان کی حقیقت کو پہچان گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے فرار ہی میں عافیت جانی۔ ضیاءشاہد نے مزید انکشاف کیا کہ اتفاق سے اس کی دوسری شادی کے وقت نہ میں موجود تھا اور نہ میری ریحام سے کوئی ملاقات ہوئی۔ البتہ جنرل حمید گل مرحوم نے مجھے فون پر یہ بتایا کہ ”ریحام خان کی شہرت اچھی نہیں “ پھر وہ بولے”ضیا“ میں ذاتیات کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میری معلومات کے مطابق وہ کسی ایجنسی کی پلانٹ کی ہوئی عورت ہے۔ میں نے عمران کو پیغام بھی بھیجا ہے۔ مجھے پتہ ہے تم بھی کھل کر بات کر سکتے ہو اور تمہاری بات بری لگے تو بھی وہ سن لے گا۔
میں نے کہا جنرل صاحب میرا کئی ماہ سے عمران سے کوئی رابطہ نہیں ، میں اسلام آباد میں اس کے دھرنے کا بھی کوئی پرجوش خامی نہیں رہا ۔ میری رائے تھی کہ دھاندلی کے خلاف جوڈیشل کمیشن بنوا لو اور ڈاکٹر طاہر القادری سے مل کر ایک دن میں انقلاب لانے کے یوٹوپین مطالبہ نہ کرو۔ میں نے یہ پیغام بھی دیا تھا کہ کوئی تمہارے کہنے پر اپنے گھر کی بجلی نہیں کٹوائے گا۔ میرے خیال میں شاید اس کے سیاسی یا ذاتی دوستوں میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ اسے منع کر سکے۔ واضح رہے کہ گفتگو تک ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ مرحوم حمید گل سے میرے پرانے تعلقات تھے ۔ جو کام تحریک انصاف نے کیا یعنی محاسبے کا مطالبہ۔
وہی برسوں پہلے عام الیکشن میں ہماری احتساب موومنٹ کر چکی تھی۔ یہ سیاس یجماعت نہیں غیر سیاسی اور غیر جماعتی تحریک تھی جس کے حمید گل صدر تھے۔ محمد علی درانی نائب صدر اور میں جنرل سیکرٹری ، ہم نے اخباروں میں صرف ایک اشتہار دیا تھا کہ الیکشن سے پہلے احتساب ہونا چاہیے اور ہمیں ایک ہفتے کے اندر دس ہزار سے زیادہ نام موصول ہوئے تھے۔ ہم نے لاہور ، اسلام آباد ، ملتان ، پشاور میں احتساب موومنٹ کے جلسے بھی کئے تھے اور میرے ذمے یہ کام بھی لگا تھا کہ میں عمران سے اس سلسلے میں بات کروں۔ لیکن میرا اصرار تھا کہ عمران ایک سیاسی جماعت چلا رہا ہے۔ وہ اگرچہ ہمارے مطالبے سے متفق ہے لیکن اسے ساتھ ملانے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارا پلیٹ فارم سیاسی جماعت کی طرح ہے جبکہ ہمارے باقاعدہ ممبران ہیں جنہوں نے دستخط شدہ فارم پر کئے ہیں۔ زیادہ تعداد طاللب علموں ، سرکاری ملازموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان کی ہے تاہم ملک معراج خالد ہوں یا عمران خان ، وہ بھرپور انداز میں ہماری حمایت کر رہے ہیں۔ میں نے یہ واقعہ صرف اس لئے سنایا کہ حمید گل خود بھی زندگی بھر میری طرح عمران کے بہت دوست رہے۔ ان کی اہلیہ اور عبداللہ کی والدہ کی بیماری کے سلسلے میں حمید گل کافی پریشان تھے۔ دوبارہ انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپ اسلام آباد آئیں اور عمران روزانہ ایک بار کنٹینر سے اتر کر بنی گالا اپنے گھر جاتا ہے۔ آپ ان سے ملو اور سمجھائیں کہ ہرگز ہرگز اس عورت کے چکر میں نہ پڑے۔ بہر حال میں نے جنرل حمید گل سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم عمران کے گرد کون لوگ جمع ہو چکے ہیں۔ میں نے انہیں دو تین پیغام بھیجے تھے کہ آپ دھرنے میں اپنا مطالبہ صرف انتخابی بے قاعدگی جسے آپ دھاندلی کہتے ہیں۔ اس کیلئے انکوائری کمیشن تک محدود رکھو ۔ وزیراعظم ، وزیراعلیٰ استعفیٰ دے ۔ میں نے عمران سے کہا تھا کہ حکومتیں یا تو خونیں انقلاب کے ذریعے تبدیل ہوتی ہیں یا مارشل لاءکے ذریعے لیکن بہتر راستہ یہ ہے کہ اگلے الیکشن کا انتظار کیا جائے یا پھر مڈٹرم الیکشن کروائے جائیں یوں دارالحکومت گھیر کر حکمرانوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل حمید گل نے مجھ سے ٹیلیفون پر پوچھا کہ آپ کو اپنے پیغام کا جواب ملا۔ میں نے کہا ”کوئی جواب نہیں ملا“ شائد وہ مصروف ہو لیکن میرے خیال میں اس وقت عمران پر عشق کا بھوت سوار ہے ، لہٰذا اس سے بات کرنا یا شادی سے روکنا مشکل ہے۔ یہ پھل بھی وہ چکھ لے ، اگر آپ کے شکوک حقیقت پر مبنی ہیں تو جلد ہی اسے انداز ہو جائے گا۔