sheikh-rasheed

ڈان لیکس ،کمیٹی عہدے ہی خلط ملط کردیے، شیخ رشید

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد قومی سطح کے لیڈر ہیں لیکن ڈان لیکس کے معاملے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انہوں نے کمیٹی میں شامل ارکان کے عہدے ہی خلط ملط کردیے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ کو لکھے گئے خط نے شیخ رشید احمد کی کم علمی کا پول کھول دیا ہے کیونکہ جن 3 لوگوں پر شیخ رشید نے اعتراضات اٹھائے تھے ان میں سے 2 ان عہدوں پر رہے ہی نہیں جن کا انہوں نے اپنے خط میں تذکرہ کیا ہے۔ شیخ رشید کی جانب سے عثمان انور پر اعتراض اٹھایا گیا ہے جبکہ انہوں نے کبھی بھی پنجاب سپورٹس بورڈ میں خدمات سر انجام نہیں دیں کیونکہ وہ ایف آئی اے کے افسر ہیں۔ عثمان انور نام کے ایک اور شخص ڈی جی سپورٹس رہے ہیں جو ان دنوں او ڈی ڈی ہیں لیکن جو عثمان انور تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہیں وہ ایک الگ شخصیت ہیں لیکن شیخ رشید نے دونوں کو ایک ہی سمجھ لیا۔ دوسری جانب جس رکن پر شیخ رشید نے اعتراض اٹھایا وہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن طاہر شہباز ہیں جو مشرف دور میں ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ رہ چکے ہیں۔ انہیں بعد ازاں جہانگیر ترین کی وزارت صنعت میں جوائنٹ سیکرٹری تعینات کیا گیا اور وہ اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سی ڈی اے کے چیئرمین تعینات ہوئے۔ انہیں جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ کا رجسٹرار تعینات کیا اور وہ گزشتہ کئی ماہ سے کسی بھی طور پر شہباز شریف کے نیچے کام نہیں کر رہے ۔