مجھے اس خاتون کے حوالے کرنے سے پہلے ریپ کا نشانہ بنایاگیااور پھر یہ دبئی لے آئی جہاں۔ ۔ ۔

دبئی (ہاٹ لائن) عرب ملک میں بیشتر پاکستانی روز گار کے سلسلے میں جاتے ہیں جہاں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے لالچ میں آکر ملک کو قوم کی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں اور طائفوں کی شکل میں نوجوان لڑکیاں عرب ممالک میں لے جاکر بدکاری کی جاتی ہے لیکن ان گروہوں کے شکنجے میں بعض اوقات معصوم لڑکیاں بھی آجاتی ہیں جن کیلئے پھراپنی زندگی گزارنا بھی اجیرن ہوجاتاہے ،ا یسا ہی کچھ ایک 16سالہ لڑکی کیساتھ ہواجسے قریبی رشتہ دار نے واجب الادا قرض کے عوض ایک مرد کے سپرد کردیا جس نے جنسی ہوس بجھانے کے بعد اسلام آباد کی ایک پیشہ ورخاتون کے حوالے کردیالیکن یہ خاتون بھی دبئی پہنچ کر قانون کے شکنجے میں آگئی اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔

دبئی کی عدالت کوپکڑی گئی 16سالہ لڑکی نے بتایاکہ ایک شخص جس کے اس کے انکل نے کچھ پیسے دینے تھے ، اسے اغواءکیا اوربدفعلی کے بعد اسلام آباد کی اس خاتون کے حوالے کردیا، خاتون نے مجھے ہوس بے جامیں رکھا اور دھمکیاں وتشدد کرکے بدکاری کراتی رہی تاہم عدالت میں موجود ایک گروہ کا حصہ35سالہ پاکستانی خاتون’نائکہ‘ نے انسانی سمگلنگ، خواتین کو بدکاری میں دھکیلنے سمیت تمام الزامات کی تردید کردی ۔
متاثرہ لڑکی نے تحقیقاتی اداروں کو بتایاکہ خاتون نے مجھے اپنے سابق شوہر سے اولاد قراردیتے ہوئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوایا، دو مرتبہ بدکاری کیلئے دبئی لائی ۔ اغواءکرنے اور ریپ کرنیوالے شخص کیخلاف لڑکی نے کسی قسم کی شکایت درج نہ کرانے سے متعلق سوال کے جواب میں لڑکی نے کہاکہ وہ قانونی پہلوﺅں سے واقف نہیں ، وہ اس مرد سے خوفزدہ بھی ہے۔لڑکی نے بتایاکہ اس کی اصل عمر 16سالہ ہے اور آخری مرتبہ وہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تین جنوری کو وزٹ ویزے پرآئی تھی ، آنے سے قبل ملزمہ نے بتایاکہ وہ ایک بیوٹی سیلون میں کام کرے گی لیکن الرفعہ میں ایک فلیٹ میں اسے بدکاری کے دھندے میں جھونک دیاگیااور اسے ایسا کرنا پڑا کیونکہ یہاں وہ کسی کو نہیں جانتی لیکن بعدازاں ایک پاکستانی مرد کے ذریعے شارجہ پولیس کواپنی اس آزمائش کی شکایت کرنے کی مدد لی ، وہ ڈری ہوئی تھی کہ اگر پاکستان میں خاتون کی شکایت کی تو وہ اسے قتل کرادے گی جس کی دھمکیاں بھی خاتون دیتی رہتی تھی،کئی دیگر خواتین بھی ان کیساتھ اپنی مرضی سے بدکاری کے لیے دبئی آئیں ۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایاکہ متاثرہ لڑکی اپنے پاس آنیوالے ایک مرد کے ہمراہ شارجہ آئی اور پھربھاگ گئی،بعدازاں پولیس کو مخبر کی مدد سے ان تک پہنچنے میں کامیابی ملی ۔ اہلکار نے بتایاکہ ’ہم 22جنوری کی سہہ پہر کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے ، وہ چلا رہی تھی اور بہت گھبرائی ہوئی تھی ، اپنے ملک میں واپس بھیجنے کے لیے جلد ازجلد ہمیں مدد کی درخواست کی،35سالہ خاتون اسے نائٹ کلب لے جایاکرتی تھی جہاں رقم کے بدلے میں اسے جسم فروشی کیلئے پیش کرتی تھی۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ لاہورسمیت پاکستان کے ایئرپورٹس سے طائفوں کی شکل میں نوجوان لڑکیاں عرب ممالک کا رخ کرتی ہیں اور ساتھ موجود مرد وں کا بھی آنا جانا لگا رہتاہے لیکن پاکستان کی حکومت کی طرف سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایاگیاجس سے اس ’گناہ‘ کی روک تھام میں مدد ملے اور ملک وقوم کوبدنامی سے بچایاجاسکے ۔