دولتِ اسلامیہ ایک شاطر تنظیم اور ایک ’وحشی دشمن‘ ہے: جنرل سٹیون ٹاؤنسنڈ

امریکہ کی اتحادی فورسز کے سربراہ لفٹینینٹ جنرل سٹیون ٹاؤنسنڈ نے میدانِ جنگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دولتِ اسلامیہ حسبِ منشا ڈھل جانے والی اور شاطر تنظیم ہے۔ اور موصل کی جنگ میں دولتِ اسلامیہ ایک ’وحشی دشمن‘ ہے۔
جمعرات کے روز عراقی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے موصل سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ قصبہ بارطلا فتح کر لیا ہے۔
عیسائی اکثریت والے اس قصبے میں دولتِ اسلامیہ نے خوب مزاحمت کی اور اتحادی فوجوں کی پیش رفت کے خلاف متعدد خودکش دھماکوں کی اطلاعات بھی ہیں۔
عراق میں محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے سربراہ طالب شغاسی الکینانی کا کہنا ہے کہ بارطلا پر قابو پانے سے عراقی فوج موصل کے انتہائی قریب آگئی ہے اور موصل کو دولتِ اسلامیہ سے واپس لینے کی جنگ میں اہم مقام ہوگا۔
بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں لفٹینینٹ جنرل سٹیون ٹاؤنسنڈ نے بتایا کہ دولت اسلامیہ انسانی ڈھالوں کا حربہ استعمال کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وحشیانہ مخالف کو روکنا ہوگا۔
لفٹینینٹ جنرل سٹیون ٹاؤنسنڈ نے کہا کہ ’وہ ٹی وی پر لوگوں کے سر کاٹتے ہیں، لوگوں کو پانی میں ڈوباتے ہیں، زندہ انسانوں کو پنجروں میں بند کر کے آگ لگا دیتے ہیں، اور سڑکوں پر لوگوں پر سے گاڑیاں گزار دیتے ہیں۔‘
موصل کا شہر 2014 سے دولتِ اسلامیہ کے زیرِ اثر ہے اور عراق میں جنگجوؤں کا آخری اہم گڑھ ہے۔