مردم شماری میں تاخیر؛ سپریم کورٹ حکومت پر برہم

اسلام آباد(ہاٹ لائن) سپریم کورٹ نے حکومت کی مردم شماری کرانے کی مشروط تاریخ مسترد کردی۔ چیف جسٹس انورظہیر جمالی نے حکومت پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلوں پرعمل نہیں کرنا تو عدالت بھی بند کردیں۔ حکومت سے یکم دسمبر تک غیرمشروط مردم شماری کا ٹئم فریم طلب کرلیاگیا۔
مردم شماری میں تاخیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے حکومت کی جانب سے آئندہ سال مارچ، اپریل میں مردم شماری کرانے کی تاریخ محض دکھاوا قرار دے دی۔ چیف جسٹس کہتے ہیں ادارہ شماریات مردم شماری نہیں کرا سکتا تو اس کی ضرورت کیا ہے؟ فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو عدالت بھی بند کر دیں۔
سیکرٹری شماریات نے فوج کی عدم دستیابی کو مردم شماری میں تاخیر کا جواز بنایا۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ فوج کی عدم دستیابی کی وجہ سے مردم شماری نہیں کرائی جا سکی، فوج دستاب ہوئی تو آئندہ سال مارچ یا اپریل تک مردم شماری کا آغاز کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہا لکھا ہے کہ فوج کے بغیر مردم شماری نہیں ہو سکتی۔ سارے کام فوج نے کرنے ہیں تو سول اداروں کی کیا ضرورت ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں کو اسٹیٹس کو سوٹ کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا خیال ہے اگر مردم شماری کروائی تو اسمبلیوں کی نشستیں بڑھانا پڑیں گی۔ پانچ ماہ سے حکومت کو وقت دے رہے ہیں مگرکچھ نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے یکم دسمبر تک مردم شماری کی غیرمشروط اور واضح تاریخ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ (ن ی)