دہشت گردی کے خلاف جنگ ، پاکستان کو کتنے ارب ڈالر کا نقصان ،سٹیٹ بینک نے سب بتا دیا

دہشت گردی کے واقعات کے باعث ملک میں معاشی اور سماجی شعبے کی ترقی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ¾ سالانہ رپورٹ
کراچی(ہاٹ لائن ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک کو اب تک 118 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ رقم مجموعی سالانہ ملکی پیداوار کے تیسرے حصہ سے زائد ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ 2002 سے 2016 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بل واسطہ اور بلا واسطہ ملک کو 118 ارب 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔پاکستان کے سینٹرل بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے باعث ملک میں معاشی اور سماجی شعبے کی ترقی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔اسٹیٹ بینک نے کہاکہ اپنی سرزمین پر جاری جنگ کے دوران نا صرف پاکستان کو بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھانا پڑا جس میں ہلاکتیں اور اندرونی طور پر نقل مکانی بھی شامل ہے بلکہ اس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی اور ملکی سرمایہ کاری رک گئی، برآمدات منجمد ہوگئیں اور ملک کی تجارت کو شدید نقصان پہنچا۔اسٹیٹ بینک نے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں معاشی کارکردگی پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے پر توجہ دی جائے۔رپورٹ کے مطابق 30 جون 2016 کو ختم ہونے والے سال کے اختتام پر مہنگائی کی اوسط شرح گھٹ کر 2.9 فیصد پر آگئی ہے۔اسٹیٹ بینک نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے۔نجی ٹی وی کے مطابق رپورٹ میں کہاگیا کہ بچت اسکیموں میں اضافے کی ضرورت ہے اور نجی شعبے کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لیے سہولیات دینا ہونگی کیونکہ اب تک نجی شعبے کی سرمایہ کاری حوصلہ افزاءنہیں ہے اس کے علاوہ عارضی اقدامات پر ٹیکس نظام کا انحصار معیشت میں بگاڑ پیدا کررہا ہے۔