سینیٹ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (ترمیمی) بل اور اسلام آباد ہائیکورٹ (ترمیمی) بل 2016ءسمیت چار بل اتفاق رائے سے منظور کرلیے

اسلام آباد (ہاٹ لائن) سینٹ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (ترمیمی) بل 2016ءاور اسلام آباد ہائیکورٹ (ترمیمی) بل 2016ءسمیت چار بلوں کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا جبکہ مختلف قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی طرف سے کمیٹیوں کو تفویض کردہ امور پر رپورٹیں پیش کرنے کےلئے مزید مہلت دےدی گئی ۔منگل کو اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے تحریک پیش کی کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ 1976ءمیں مزید ترمیمی کا بل پاکستان انجینئرنگ کونسل (ترمیمی) بل 2016ءقائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ اس بل کے تحت معمولی سی ترمیم کی گئی ہے اور آرمی کے انجینئر کو بھی ممبر بنانے کے لئے یہ ترمیم لائی جارہی ہے۔ بعدازاںسینٹ نے اتفاق رائے سے اس بل کی منظوری دیدی۔ وزیر قانون نے مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2016ءدی سنٹرل لاءآفیسرز ترمیمی بل 2016ءاور اسلام آباد ہائیکورٹ (ترمیمی) بل 2016ءبھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لانے کے لئے الگ الگ تحاریک پیش کیں۔ سینٹ نے ان تحاریک کی منظوری دیدی جس کے بعد انہوں نے یہ بل ایوان میں پیش کئے۔ چیئرمین نے بلوں کی شق وار منظوری حاصل کی ۔ سینٹ نے اتفاق رائے سے ان بلوں کی منظوری دیدی۔اجلاس کے دور ان وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے سینٹ میں کمپنیات آرڈیننس 2016ءآرڈیننس نمبر چھ بابت 2016ءپیش کردیا۔ وزیر قانون زاہد حامد نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 89 کی شق 2 کے متقضیات کے مطابق یہ آرڈیننس ایوان میں پیش کیا۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے مختلف قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی طرف سے کمیٹیوں کو تفویض کردہ امور پر رپورٹیں پیش کرنے کے لئے مزید مہلت دے دی۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ‘ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف‘ قائمہ کمیٹی برائے قواعد ضابطہ کار و استحقاقات اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمینوں کی طرف سے مختلف بلوں اور تفویض کردہ دیگر امور پر کمیٹیوں کی رپورٹیں پیش کرنے کے لئے مزید مہلت طلب کی گئی۔ چیئرمین نے کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے دلائل سننے کے بعد تمام کمیٹیوں کو رپورٹیں پیش کرنے کے لئے مزید مہلت دے دی۔