یوم پیدائش، پروین شاکر کو بچھڑے 22 برس بیت گئے

کراچی(ہاٹ لائن) آج سے 64 سال پہلے کراچی کے ایک ہسپتال میں افضل النسا اور سید شاکر حسین زیدی کے ہاں ایک ننھی پری کا جنم ہوا جسے آج پروین شاکر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بلاشبہ اس شاعرہ کے الفاظ ان کی موت کے بعد بھی لوگوں کی ذہنوں سے محو نہیں ہوسکے ہیں اور لگتا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی شہرت میں اضافہ ہورہا ہے۔ پروین شاکر نے نہایت چھوٹی عمر سے ہی لکھنا شروع کردیا تھا، انھوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر پر بھی طبع آزمائی کی جبکہ اردو اخبارات میں بھی ان کے کالم شائع ہوئے اور کچھ مضامین انگلش روزناموں کا حصہ بنے۔ آغاز میں وہ بینا کے نام سے لکھا کرتی تھیں جس کے ساتھ ساتھ ان کا تعلیمی سلسلہ بھی آگے بڑھتا رہا، پروین شاکر نے انگلش لٹریچر اور زبان دانی میں گریجویشن کے بعد ان ہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر 9 برس تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں جس کے بعد انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کرکے کسٹم کے محکمے کے لیے کام شروع کیا۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ‘خوشبو’ صرف 24 سال کی عمر میں شائع ہوا۔ انھوں نے بہت چھوٹی سی عمر میں شعر و شاعری کا آغاز کیا، پروین سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔ انھوں نے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا، خواہش اور انکار کو شعر کا روپ دیا۔ ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے، انہوں نے اپنی شاعری میں صنف نازک کے جذبات کی تصاویر بنائیں اور اس کے دکھوں اور کرب کو نظموں میں ڈھالا۔ پروین شاکر کی دیگر مشہور کتابوں میں انکار، صدِ برگ، خودکلامی اور کف آئینہ شامل ہیں۔ انھوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نویسی بھی کی، انہیں ادب میں بہترین خدمات پر حسن کارکردگی کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک حادثے میں پروین شاکر 42 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ پروین شاکر کو بچھڑے 22 برس ہوچکے ہیں، مگر ان کی شاعری خوشبو کی طرح کو بہ کو پھیلتی چلی جا رہی ہے۔