بوڑھے جسم میں نوجوان خون کی منتقلی صحت کے لیے بہترین

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بوڑھے جسم میں نوجوان خون کی منتقلی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق خون کی منتقلی محض 24 گھنٹے کے اندر جگر اور دماغ کے مسلز کے ٹشوز کی مرمت میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے نمایاں طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں تاہم اس سے بڑھاپے کی روک تھام ممکن نہیں۔ اس حوالے سے چوہوں پر تجربات کے دوران نوجوان چوہوں میں ان کے بوڑھے ساتھیوں کا خون منتقل کیا گیا تو مسلز کے ٹشوز کی صحت اور ان کی مرمت کی سطح میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی۔ تحقیق کے مطابق یہ موثر ادویات جیسا طریقہ کار تو نہیں مگر اس سے صحت میں بہتری ضرور لائی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ خون میں موجود ایک پروٹین جی ڈی ایف 11 عمر بڑھنے سے کم ہوجاتا ہے۔ تاہم اس نئے طریقہ کار سے بوڑھے جسم کے مسلز زخمی ہونے پر جلد بھرنے لگتے ہیں جبکہ خون گاڑھا نہیں ہوتا۔ چوہوں کے بعد اگلے چند ماہ کے دوران انسانوں پر اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔