ہفتہ رفتہ؛ روئی کے بھاؤ 8000 روپے من تک پہنچ گئے

اس سال ملک میں روئی کی کل پیداوار ایک کروڑ 15 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے۔

کراچی: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران بھی روئی کے بھاؤ میں تیزی کا تسلسل جاری رہا جب کہ معیاری روئی کا بھاؤ فی من8000 روپے کے بھاؤ کی سیزن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جو گزشتہ 7 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

2010-11کی سیزن میں روئی کے بھاؤ میں ہوشربا اضافہ ہو کر روئی کا بھاؤ فی من 14000 روپے کی پاکستان کی کپاس کی تاریخ کی سب سے بلند ترین سطح کو چھولیا تھا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے بھی اسپاٹ ریٹ فی من 300 روپے کے اضافے کے ساتھ سیزن کی بلند ترین سطح فی من 7300روپے کے بھاؤ پر پہنچ گیا۔ صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 6400 تا 8000 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کل 2800تا 3550روپے رہا جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6500 تا 8000 روپے پھٹی کا بھاؤ 2800 تا3550 روپے رہا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ تقریبا 80 امریکن سینٹ کی بلند سطح پہنچ گیا۔ بھارت میں روئی کی قیمت بڑھ کر فی کینڈی(356 کلوگرام) 42000 روپے کی بلندسطح پر پہنچ گئی جبکہ چین میں روئی کی قیمت مستحکم رہی۔
پاکستان میں گزشتہ 3 سال سے کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور کپاس کی کوالٹی بھی متاثر ہو رہی ہے، اس میں بہتری لانے کی کپاس سے منسلک تمام اداروں کی طرف سے کاوش کی جارہی ہے جس کے سلسلے کا پہلا اجلاس گزشتہ جمعرات کو پی سی جی اے اور کے سی اے اوراپٹما کے نمائندوں کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کپاس کی پیداوار بڑھانے۔ فعال بیج اور کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں شگر ملیں لگانے کے رحجان کو کم کرنے جننگ فیکٹریوں کی کارکردگی بہتر کرنے۔ آلودہ کپاس کا تدارک کرنے وغیرہ 13 نقاط پر اتفاق کیا گیا۔

اس سلسلے میں کپاس کے کاشتکاروں سے بھی رہنمائی حاصل کرنے اور اونے بھی اس کاوش میں شریک کیا جائے گا۔ یہ سارے ادارے حکومت سے مذاکرات کریں گے اور خصوصی طور پر کپاس کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ روئی کی قیمت میں اضافے کا یہ ہی رحجان برقرار رہا تو اعلی کوالٹی کی روئی اور بھی مہنگی ہوسکتی ہے کیوں کہ کئی جنرز نے اعلی کوالٹی کا اسٹاک رکھا ہوا ہے۔ اس سے کم بھاؤ پر فروخت کرنے کے لیے فی الحال تیار نہیں ہیں۔

ٹیکسٹائل و اسپننگ ملزانتظار کریں گے کیوں کہ حکومت کی جانب سے روئی کی درآمد پر سے کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس خاتمے کا اعلان موخر کردیا گیا اگر ڈیوٹی میں مراعات نہیں ملیں گی تو مقامی مارکیٹ میں کپاس کا بھاؤ مزید بڑھ جائے گا۔ اس سال ملک میں روئی کی کل پیداوار ایک کروڑ 15 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے۔