کنو کی فصل پر بیماریوں کا حملہ، برآمدات میں کمی، کاشتکاروں کو پریشانی کا سامنا

ملتان (ہاٹ لائن ) ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھرمیں حکومت کی کسان کش پالیسوں ، پروسیسنگ یونٹس کی بندش اور کنو کی فصل پر مختلف بیماریوں کے حملے سے اس کی ایکسپورٹ بھی ساڑھے 3 لاکھ ٹن سے کم کر کے 2 لاکھ ٹن کر دی گئی ہے جس سے کاشتکار بھی پریشان ہیں۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں 1 لاکھ 20 ہزار ایکڑ رقبے پر کنو کے باغات ہیں جس میں سے سالانہ 7 لاکھ ٹن پیداوار میں سے ساڑھے 3 لاکھ ٹن یو اے ای، سنگاپور، فلپائن، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، ہانگ کانگ اور کینیڈا میں برآمد کر کے کروڑوں روپے زرمبادلہ کمایا جاتا تھا لیکن حکومت کی جانب سے کسان کش پالیسیوں کے باعث اب صرف 2 لاکھ ٹن ہی برآمد رہ گئی ہے۔ پروسیسنگ یونٹس کی بندش اور غیر معیاری کوالٹی کے باعث بھی کنو کی برآمد میں مزید کمی کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے کسان بھی پریشان ہیں۔ محکمہ زراعت کی جانب سے بھی فصل کو بیماریوں سے بچانے کے لیے کوئی آگاہی مہم نہیں چلائی گئی جس کی وجہ سے کنو پر کیکر کیری اور سڈن ڈیتھ کے حملے نے بھی پیداوار کو کافی متاثر کیا ہے۔ (ن ی)