پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر لاہور میں سپرد خاک

لاہور (ہاٹ لائن) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر کو لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق بے نظیر بھٹو کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر گزشتہ روز لاہور کے نجی اسپتال میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے تھے جن کی نماز جنازہ پنجاب یونورسٹی لا کالج کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں میانی صاحب قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، اساتذہ، طلبا اور علما کرام سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ جہانگیر بدر کافی عرصے سے گردے اور دل کے مرض میں مبتلا تھے جس کے باعث انہوں نے اپنی جماعت کی سرگرمیوں اور تقاریب میں جانا بھی محدود کردیا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری، پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور ماہر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے جہانگیر بدر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آصف علی زرداری کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ جہانگیر بدر نے ضیا دور میں جیلیں کاٹیں جب کہ بلاول بھٹو کا اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جہانگیر بدر کے بغیر اپنے سیاسی سفر کو مکمل کرنا پڑے گا۔عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ جہانگیر بدر کارکنوں کا درد رکھنے والے سیاستدان تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی جہانگیر بدر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ سے تعزیت اور مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر بدر کی جمہوریت کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جہانگیر بدر کی کمی ہر پاکستانی کو محسوس ہو گی۔ جہانگیر بدر 25 اکتوبر 1944 میں لاہور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ جہانگیر بدر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے 2 مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔ جہانگیر بدر نے 60 کی دہائی میں طلبا سیاست سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا اور باقاعدہ طور پر پہلی مرتبہ 1988 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وہ وفاقی وزیراور سینیٹ میں لیڈرآف دی ہاؤس بھی رہ چکے ہیں۔