پرانے مسلم لیگی وکرز نظر انداز ،خوشامدی ٹولہ کو ٹکٹیں جاری کردیں

اوکاڑہ(بیورورپورٹ) مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی نے میونسپل کمیٹی کی مخصوص سیٹوں پر پرانے مسلم لیگی ورکرزکو ےکسرنظرانداز کرکے اپنے خوشامدی ٹولہ کو ٹکٹیں جاری کردیں جس کے خلاف کونسلرزنے بغاوت کا علم بلند کردیا ہم خیال کونسلرزنے خوشامدی ٹولہ کو ہرانے کیلئے باہمی مشاورت شروع کردی لیبرکی سیٹ پر نامزد دونوں ٹکٹ ہولڈرکے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کا عندیہ دے دیا آزاد حیثیت سے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوارکو شکست دینے والے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے رکن قومی اسمبلی ریاض الحق جج اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری پنجاب میاں محمد منیرنے باہمی گٹھ جوڑسے میونسپل کمیٹی اوکاڑہ کی مخصوص سیٹوں پر پرانے مسلم لیگی ورکرزکو ےکسرنظرانداز کرکے اپنے اپنے خوشامدی ٹولہ کوٹکٹیں جاری کردیں ہیںجس سے پرانے مسلم لیگی ورکرزمیں انتہائی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے کونسلرزنے ان ٹکٹ ہولڈرزکے خلاف بغاوت کا علم بلند کردیا ہے اس سلسلہ میں ہم خیال کونسلرزنے باہمی مشاورت سے اپنا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گارکن قومی اسمبلی ریاض الحق جج نے لیبرکی سیٹ مرزانعیم بیگ کو ٹکٹ جاری کیا ہے جنہوں نے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر کونسلرکا الیکشن لڑا تھا اور وہ ہارگئے حالانکہ وہ اس سیٹ کے اہل نہیں تھے جبکہ ےوتھ کاٹکٹ صدرمسلم لیگ ن لائیرزونگ ساہیوال ڈویژن شاہد حمید ایڈووکیٹ کے حقیقی بھتیجے حافظ محمد حسان کو نظراندازکرکے ایک ایسے نوجوان کو جاری کیا ہے جسکا مسلم لیگ ن سے دور دورکا بھی تعلق نہ ہے علاوہ ازیںلیبرکی سیٹ پرسینئرمسلم لیگی ورکر شفیق الرحمن شیخ اور سینئرمسلم لیگی ورکرمس صائمہ رشید ایڈووکیٹ کو بھی ےکسرنظراندازکیا گیاخفیہ رائے شماری ہونے کے باعث مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈرزکو شکست کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ پرانے مسلم لیگی ورکرزنے مخصوص سیٹوں پر اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔