انڈین چینلز اور فلموں پر پابندی کے باوجود ہال روڈ و دیگر مارکیٹیوں میں فروخت جاری

لاہور(ہاٹ لائن ) حکومت اور پیمراکی طرف سے انڈین چینلز اور فلموں پر پابندی کے باوجود ہال روڈ اور دیگر مارکیٹیں انڈین فلموں اور گانوں کی ڈی وی ڈیز سے بھری پڑی ہیں۔آن لائن کے ایک سروے کے مطابق ا س وقت ہال روڈ اور دیگر پوش علاقوں کی مارکیٹوں میں انڈین فلموں اور گانوں کی ڈی وی ڈیز کی بھرمار ہے جو غیر قانونی طریقے سے نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے تیار کی جارہی ہیں انڈیا کی ہر نئی فلم ریلیز ہوتے ہیں ہال روڈ پر کم قیمت میں دستیاب ہوتی ہے جسے پنجاب بھرکے شہروں میں سپلائی کردیا جاتا ہے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح حکومت اور پیمرا نے انڈین چینلز اور فلموں کی نمائش پر پابندی لگائی ہے وہ خوش آئند ہے بالکل اسی طرح انڈین فلموں اور گانوں کی ڈی وی ڈیز پر بھی فی الفور پابندی لگائی جائے جو معاشرے کو تباہ کررہی ہیں۔اداکاروں اور گلوکاروں نے بھی ان ڈی وی ڈیز کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔اداکار ریمبونے کہاکہ ان فلموں کی ڈی وی ڈیز کی وجہ سے ہماری فلموں کو منہ نہیں لگایا جاتا ۔
اس لیئے ان ڈی وی ڈیز کو بھی ختم کیا جائے۔ہدائتکار سید نور نے کہاکہ ان ڈی وی ڈیز کی وجہ سے پائریسی نے ملک کو جکڑا ہواہے اس لیئے ان پر فوراً پابندی نہ لگائی گئی تو یہ ہمارے لیئے ناسو بن سکتی ہے۔ہدائتکارہ سنگیتا نے کہاکہ ان ڈی وی ڈیزکی وجہ سے فلم انڈسٹری کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے اس لیئے پائریسی کا قانون بھی فوری نافذ کیا جائے اور ان ڈی وی ڈیز کو ختم کیا جائے۔اداکار شان نے کہاکہ چند روپے میں بکنے والی یہ ڈی وی ڈی معاشرتی بگاڑ پیدا کررہی ہیں اس لیئے ان پا پابندیہ لگائی جائے۔گلوکار اکرم راہی نے کہاکہ انڈین گانوں کی ان ڈی وی ڈیز نے ہمارے میوزک کو بے توقیر کردیا ہے اس لیئے ان پر فی الفور پابندی لگا کر ہال روڈ و دیگر مارکیٹوں میں موجود ان ڈی وی ڈیز کو تلف کیا جائے۔گلوکار مظہر راہی نے کہاکہ حکومت کاپی رائیٹ ایکٹ کو نافذ کرے تو ان ڈی وی ڈیز کا خود بخود خاتمہ ہوجائیگا۔ معروف قانون دان فہیم صفدر نے کہاکہ کاپی رائیٹ ایکٹ کا وجود ہے مگر ہمارے جو ادارے ہیں ان تک کوئی اس کے خؒ اف شکائت لے کر نہیں پہنچتا جس وجہ سے یہ قانون پوری طرح نافذ نہیں ہوسکا اس لیئے پائریسی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوپارہا اس لیئے فلم انڈسٹری ،چینلز اور میوزک انڈسٹری کے کرتا دھرتا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔